حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 66
حیات احمد جلد چهارم سے پہلو تہی کریں تو پھر اس صورت میں کوئی دوسرا درخواست کر سکتا ہے۔مگر یادر ہے کہ یہ اشتہار اپنی شرائط کے ساتھ تجویز ناطق ہے۔اور کسی صورت میں کمی بیشی ان شرائط کی جائز نہ ہوگی۔اور یہ تمام شرائط ہر ایک کے لئے جو میدان میں آوے ایک اٹل قانون کی طرح سمجھی جائیں گی۔منہ نوٹ۔ہمدرد ہند لا ہور ۱۲ اپریل ۱۸۹۷ء میں گنگا بشن صاحب نے ایک اور شرط زیادہ کی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب میں یعنی یہ راقم حسب قرار داد جھوٹا نکلنے کے پھانسی کی موت سے مارا جائے تو میری لاش ان کو یعنی گنگا بشن کو مل جائے اور پھر وہ اُس لاش سے جو چاہیں کریں، جلا دیں، دریا بُر دکریں یا اور کارروائی کریں۔سو واضح رہے کہ یہ شرط بھی مجھے منظور ہے اور میرے نزدیک بھی جھوٹے کی لاش ہر ایک ذلّت کے لائق ہے اور یہ شرط در حقیقت نہایت ضروری تھی جو لالہ گنگا بشن صاحب کو عین موقعہ پر یاد آگئی۔لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ یہی شرط بالمقابل اپنے لئے بھی قائم کریں۔ہم نے مناسب نہیں دیکھا کہ ابتداء اپنی طرف سے یہ شرط لگاویں۔مگراب چونکہ لالہ گنگا بشن صاحب نے بخوشی خود یہ شرط قائم کر دی۔اس لئے ہم بھی یہ دل سے شکر گزار ہو کر اور اس شرط کو قبول کر کے اسی قسم کی شرط اپنے لئے قائم کرتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ جب گنگا بشن صاحب حسب منشاء پیش گوئی مر جائیں تو ان کی لاش بھی ہمیں مل جائے تا بطور نشان فتح وہ لاش ہمارے قبضہ میں رہے اور ہم اُس لاش کو ضائع نہیں کریں گے بلکہ بطور نشان فتح مناسب مصالحوں کے ساتھ محفوظ رکھ کر کسی عام منظر میں یا لاہور کے عجائب گھر میں رکھا دیں گے لیکن چونکہ لاش کے وصول پانے کے لئے ابھی سے کوئی احسن انتظام چاہیے لہذا اس سے زیادہ کوئی انتظام احسن معلوم نہیں ہوتا کہ پنڈت لیکھرام کی یادگار کے لئے جو پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار روپیہ جمع ہوا ہے اس میں سے دس ہزار روپیہ بطور ضمانت لاش ضبط ہوکر سرکاری بنک میں جمع ، رہے۔