حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 68 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 68

حیات احمد ۶۸ جلد چهارم میں اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں ایک سال کے اندر مر گیا تو میرے والدین کا کوئی حق نہ ہوگا کہ میری لاش لیں ہاں اگر لیں تو مرزا غلام احمد صاحب کو دس ہزار روپیہ دیں۔اور ساتھ ہی اس بات کا عذر لکھا ہے کہ میں دس ہزار روپیہ جمع نہیں کراسکتا۔اور میں آریہ سماج کا ممبر نہیں۔پھر وہ کیونکر میری امداد کریں گے۔“ افسوس کہ گنگا بشن نے اس اشتہار کے لکھنے میں ناحق وقت ضائع کیا۔حالانکہ ہم اپنے اشتہار ۱۶ اپریل ۱۸۹۷ء میں لکھ چکے تھے کہ اس اشتہار کے بعد کوئی جواب نہیں سنا جائے گا۔یہ بات نہایت صاف تھی کہ جس حالت میں گنگا بشن نے ہماری لاش مانگی تھی تو ہمارا بھی حق تھا کہ ہم بھی اس کی لاش مانگیں اور دس ہزار روپیہ سے ہماری کچھ غرض نہیں تھی وہ تو صرف اس لئے جمع کرانا قرین مصلحت تھا کہ اگر لاش دستیاب نہ ہو تو بجائے لاش وہی روپیہ ہمیں مل جائے۔اور یہ عذر فضول ہے کہ ” میں آریہ سماج کا ممبر نہیں تا وہ اس قدر میرے لئے ہمدردی کر سکیں کہ دس ہزا رو روپیہ جمع کرا دیں، ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ایسا شخص جو آریہ مذہب کے دعوی کی تائید میں اپنی جان قربان کرنا چاہتا ہے کیا اُن کی نظر میں وہ قابل قدرنہیں؟ بے شک ایسا شخص جو آریہ مذہب کی عزت کے لئے جانفشانی تک طیار ہے نہ صرف آریہ سماج کا ممبر بلکہ اُن کے مقدس لوگوں میں سے شمار ہونا چاہیے۔ایسے جان نثار کی ہمدردی کے لئے دس ہزار روپیہ کیا حقیقت ہے۔ناظرین کو معلوم ہے کہ بعض آر یہ پر چوں میں لالہ گنگا بشن صاحب کو اس لاف زنی کے وقت آریہ بہادر کا خطاب بھی مل چکا ہے تو اب آریہ صاحبان کیونکر منظور کریں گے کہ اس بہادر پر شکست کا کلنک لگے؟ خلاصہ کلام یہ کہ ہم شرائط کو بدلنا نہیں چاہتے۔یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ آئے دن شرطیں بدلی جائیں۔اور یاد رہے کہ گنگا بشن صاحب کو دس ہزار روپیہ جمع کرانا کچھ بھی مشکل نہیں کیونکہ اگر آر یہ صاحبوں کی بھی درحقیقت یہی رائے ہے کہ لیکھرام کا