حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 63
حیات احمد ۶۳ جلد چهارم جیسے آریہ اور سناتن دھرم اور عیسائی وغیرہ تمام بگڑے ہوئے عقیدے ہیں۔غرض اس مضمون کی قسم کسی معتبر اور مشہور اخبار میں چھپوانی ہوگی۔اور یہی قسم قادیان میں آکر جلسہ عام میں کھانی ہوگی۔اب اگر میں اس وعدے سے پھر جاؤں تو میرے پر خدا کی لعنت ورنہ تمہارے پر۔آپ کی درخواست کے موافق مجھ پر واجب ہوگا کہ میں دس ہزار روپیہ آپ کے لئے جمع کرا دوں۔اور میری درخواست کے موافق آپ پر واجب ہوگا کہ آپ بلا کم و بیش اسی قسم کا اقرار مؤکد بقسم کسی معتبر اور مشہور اخبار میں شائع کرا دیں۔اور جیسا کہ میں تسلیم کر چکا ہوں آپ کے اس چھپے ہوئے اقرار کے پہنچنے کے بعد دو مہینے تک دس ہزار روپیہ جمع کرادوں گا اگر نہ کراؤں تب بھی کا ذب شمار کیا جاؤں گا۔اور یہ کہنا کہ ایک سال کو میں نہیں مانتا بلکہ چاہتا ہوں کہ فوراز مین میں غرق کیا جاؤں یا یہ کہ مہینہ اور تاریخ اور گھنٹہ موت کا مجھے بتلایا جائے“۔یہ آپ کے پہلے اقرار کے برخلاف ہے جو سما چار ۳ را پریل ۱۸۹۷ء میں کر چکے ہو۔علاوہ اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں۔اس کے حکم سے زیادہ نہیں کر سکتا اور نہ کم۔ہاں اگر میعاد کے اندر کوئی زیادہ تشریح خدا تعالیٰ کی طرف سے کی گئی تو میں اُس کو شائع کر دوں گا۔مگر کوئی عہد نہیں۔آپ اگر اپنی پہلی بہادری پر قائم ہیں تو ایک سال کی شرط کو قبول کرلیں۔میں یہ اقرار بھی کرتا ہوں کہ صرف اس حالت میں یہ نشان، نشان سمجھا جائے گا کہ جب کسی انسانی منصوبہ سے آپ کی موت نہ ہو اور کسی دشمن بداندیش کے قتل کا محبہ نہ ہو۔غرض یہ بات میرے اقرار میں داخل ہے کہ اگر آپ کی موت قتل یا زہر خورانی کے ذریعہ سے ہو جائے یا کسی اور ایسے ہی واقعہ سے وقوع میں آئے جس میں کسی دشمن کے منصوبہ کا دخل ثابت ہو۔تو بے شک میں جھوٹا ٹھہروں گا لیکن اگر آپ ہی اپنے قتل