حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 62
حیات احمد ۶۲ جلد چهارم عہد نہیں کیا۔یہی تو وہ غرض ہے جس کو ہم نے مد نظر رکھ کر گنگا بشن صاحب کو منہ مانگی مراد دی۔ناظرین ذرہ سوچیں کہ ایسا شخص جو خود کہتا ہے کہ مجھ کو کسی مذہب سے دلی تعلق نہیں یہاں تک کہ بعض وقت خدا کو بھی جواب دے دیا کرتا ہوں۔اُس پر ان دو اقرار کرنے سے کون سی مصیبت پڑتی ہے۔بہر حال یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ جبکہ گنگا بشن صاحب نے اپنی طرف سے دس ہزار و روپیہ جمع کرانے کی شرط بڑھا دی ہے جس کا ہمارے اشتہار ۱۵/ مارچ ۱۸۹۷ء میں نام ونشان نہ تھا تو ہم اس شرط کی عوض میں یہ چاہتے ہیں کہ وہ اخبار کے ذریعہ سے اور نیز جلسہ عام میں قسم کے ساتھ ہمارے اصل مقصد کا تصریح کے ساتھ اقرار کریں۔اور پھر ہم مکر رلکھ دیتے ہیں کہ جو اقرار وہ اخبار میں بقید اپنی ولدیت و قومیت و سکونت وضلع و ثبت شهادت و گواہان معززین شائع کریں گے اس کا لفظ بلفظ یہ مضمون ہوگا۔میں فلاں ابن فلاں قوم فلاں ساکن قصبہ فلاں ضلع فلان الله جل شانہ کی یا پر میشر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرزا غلام احمد قادیانی در حقیقت پنڈت لیکھرام کا قاتل ہے۔اور میں اپنے پورے یقین سے جانتا ہوں کہ بالضرور لیکھر ام غلام احمد کی سازش اور شراکت سے قتل کیا گیا ہے۔اور ایسا ہی پورے یقین سے جانتا ہوں کہ یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی بلکہ ایک انسانی منصوبہ تھا جو پیش گوئی کے بہانہ سے عمل میں آیا۔اگر میرا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو اے خدائے قادر مطلق اس شخص کا سچ ظاہر کرنے کے لئے اپنا یہ نشان دکھلا کہ ایک سال کے اندر مجھے ایسی موت دے کہ جو انسان کے منصوبہ سے نہ ہو۔اور اگر میں ایک سال کے اندر مر گیا تو تمام دنیا یا درکھے کہ میرا مرنا اس بات پر گواہی ہوگی کہ واقعی طور پر یہ خدا کا الہام تھا۔انسانی سازش نہیں تھی۔اور نیز یہ کہ واقعی طور پر سچا دین صرف اسلام ہے اور دوسرے تمام مذہب