حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 64
حیات احمد ۶۴ جلد چهارم ہونے کا باعث ہو جائیں مثلاً کسی بے گناہ کو قتل کریں اور عدالت اس کے عوض میں آپ کو پھانسی دے دے یا کسی وجہ سے خود کشی کر لیں یا زہر کھا لیں۔غرض ایسے امور جن میں دشمن کے منصوبہ کا دخل نہ ہو تو ایسی موت بھی نشان میں داخل ہوگی۔کیونکہ کسی دشمن کے منصوبہ کا اس میں دخل نہیں ہوگا۔ہاں اگر یہ بات نہایت صفائی سے ثابت نہ ہو کہ کسی دشمن کے منصوبہ کا آپ کی موت میں دخل نہیں تو نہ صرف یہ کہ آپ کے وارثوں کو دس ہزار روپیہ ملے گا بلکہ شرعاً و قانونا میں جرم قتل کا مجرم ٹھہروں گا!!! اور یاد رہے کہ اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں ہمارا یہ قول کہ وہ عذاب کسی انسان کے ہاتھوں اور منصوبہ سے نہ ہو۔اس سے مراد وہ انسانی منصوبہ ہے جو عداوت اور بدنیتی پر مبنی ہوتا ہے۔لیکن اگر کوئی اپنے جرم کی سزا میں مثلاً بغاوت یا قتل عمد میں عدالت کے ذریعہ سے پھانسی کی سزا پاوے یا مثلاً کسی ایسی اپنی دوا کو غلطی سے اندازہ سے زیادہ کھالے جس میں کوئی حصہ زہر کا ملا ہوا ہو اور اس سے مرجائے تو ایسی تمام صورتیں ہمارے بیان سے مستثنیٰ ہیں۔اور ایسی حالتوں میں بے شک کہا جائے گا کہ پیش گوئی پوری ہو گئی۔گو ہم بدل چاہتے ہیں کہ ایسی حالتوں سے بھی آپ الگ رہیں۔اور یاد رہے کہ اگر آئندہ اس مطالبہ کے برخلاف آپ کی طرف سے یا آپ کے کسی اور ہم قوم کی طرف سے کوئی اور تحریر شائع ہوئی تو اس کو فضول سمجھ کر اعراض کیا جائے گا۔اور اگر ، ارمئی ۱۸۹۷ ء تک بذریعہ رجسٹری حسب منشاء جواب مطبوعہ نہ ملا تو پھر آپ قابلِ خطاب نہیں ٹھہریں گے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتہر میرزا غلام احمد قادیانی ۱۶ ر ا پریل ۱۸۹۷ء نوٹ۔یہ ضروری ہوگا کہ آپ میعاد کے اخیر دن تک اپنے اس اقرار کے مخالف کوئی تحریر مطبوعہ شائع نہ کریں۔یعنی بعد اس اقرار کے کہ آپ اپنا مرنا دین اسلام کی