حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 61 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 61

حیات احمد ۶۱ جلد چهارم اب ہم صاف لفظوں میں لالہ گنگا بشن کو مطلع کرتے ہیں کہ اس قسم کی چالبازی دیانت کے طریق سے بعید ہے۔ہم نے اُن کے دس ہزار کے مطالبہ پر کسی غیر متعلق اور بیجا شرط کو زیادہ نہیں کیا بلکہ یہ وہی شرط ہے جو ہماری تمام کارروائی میں ہمیشہ سے ملحوظ اور ہماری زندگی کی علت غائی ہے۔اگر اسی شرط کو ساقط کیا گیا تو باقی کیا رہا؟ کیا ہم ایک انسان کی جان ناحق ضائع کرنی چاہتے ہیں؟ یا ہم صرف ایک بیہودہ لہو ولعب کے مشتاق ہیں جس کا دین کے لئے کوئی بھی نتیجہ نہ ہو۔ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اس قدر عظیم الشان معرکہ میں جس میں دس ہزا رو روپیہ نقد پہلے جمع کرا دیا جائے گا کچھ تو ہمارا مقصد اور غرض ہونی چاہیے۔پس کیا وہ یہی غرض ہو سکتی ہے کہ ہمیں کوئی جوتشیوں اور ملیوں کی طرح سمجھ لے؟ نہیں بلکہ اس قدر مالی زیر باری اٹھانے کے لئے محض ہم اس لئے طیار ہو گئے ہیں کہ تا اس سے اسلام کے مقابل پر ہندو مذہب کا فیصلہ ہو جائے۔سو اگر لالہ گنگا بشن صاحب اس میدان کا بہادر اپنے تئیں سمجھتے ہیں تو اب بیہودہ حیلوں حوالوں سے اپنا قدم باہر نہ کریں وہ اپنے اس اقرار کو یاد کریں جو اپنی قلم سے ۱/۳ پریل ۱۸۹۷ء کے سماچار میں شائع کر کے بیٹھے ہیں۔ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس حالت میں ان کا مقولہ ہے کہ بعض وقت میں خدا کو بھی جواب دے دیتا ہوں۔تو پھر دس ہزار روپیہ کی طمع پر اُن کو یہ کہنا کیا مشکل ہے کہ اگر میں مرگیا تو میرا مرنا اس بات کا قطعی ثبوت ہوگا کہ دنیا میں صرف دین اسلام ہی سچا مذہب ہے اور دوسرے مذہب جو اس کے مخالف ہیں جیسے آریہ مذہب اور سناتن دھرم اور عیسائی مذہب سب باطل ہیں اور نیز کہ اگر میں مر گیا تو میرا مرنا اس بات کو ثابت کرے گا کہ لیکھرام کی موت کی پیشگوئی در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی۔غرض انہی مفید باتوں کے لئے تو ہم دس ہزار روپیہ دیتے ہیں اور یہ رقم کثیر اسی اقرار کی تو قیمت ہے۔ور نہ ہم نے اپنے اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں ایک کہہ دینے کا بھی کسی کے ساتھ