حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 60 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 60

حیات احمد جلد چهارم کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ہم نے کوئی امر تمہارے مقابل پر ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء کے اشتہار کے مخالف پیش نہیں کیا بلکہ وہ باتیں جو مجمل طور پر اشتہار مذکور میں پائی جاتی تھیں ان کو کسی قدر تفصیل سے لکھ دیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ اقرار جو بذریعہ اشتہار اور نیز بالمواجہ ہم تم سے کرانا چاہتے ہیں یہ کوئی نئی شرط نہیں ہے کیونکہ ہماری یہ تمام کارروائی صرف اس غرض سے ہے کہ تاہم ثابت کریں کہ دنیا میں صرف دین اسلام ہی سچا مذہب ہے۔اور تمام مذہب باطل ہیں اور اگر یہ غرض درمیان نہ ہو تو یہ سب جھگڑے ہی عبث ہیں اور ہمارے الہام بھی عبث یہی تو ایک مدعا ہے یعنی دین اسلام کی سچائی ثابت کرنا جس کے لئے یہ نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہورہے ہیں۔چنانچہ آپ نے سماچار ۳ اپریل ۱۸۹۷ء کی تحریر میں اس بات کا خود بھی اقرار کر لیا جب کہ یہ کہا کہ ” میرے مرنے کے بعد دوسرے لوگ آپ کے مقابل پر کھڑے نہیں ہوں گے۔کیا اس تحریر کا بجز اس کے کوئی اور مدعا تھا کہ اس فتح کے بعد دوسرے مذہبوں کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا۔سو ہم آپ سے بذریعہ اخبار اور نیز بالمواجہ بھی اقرار چاہتے ہیں اور پنڈت لیکھرام سے بھی پیشگوئی کے مطالبہ پر یہی اقرار لیا گیا تھا کہ یہ پیش گوئی آریہ مذہب اور اسلام میں بطور فیصلہ کرنے والے منصف کے متصور ہوگی۔وہی عہد نامہ ۱۸ اپریل ۱۸۹۷ء کو تلاشی کے وقت صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے حضور میں پڑھا گیا تھا۔میں سوچ میں ہوں کہ اقرار کے بعد یہ بیہودہ انکار آپ نے کیوں کر دیا ؟ ادنی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ تمام ہماری سرگرمی اس غرض سے نہیں ہے کہ کوئی شخص ہم کو منجموں اور رمالوں کی طرح مان لے یا صرف کچی پیشگوئیوں والا سمجھ لے۔اس قوم کی لغو تعریفوں سے تو ہم بدل بیزار ہیں بلکہ یہ سب اسلام کی تائید میں خدا تعالیٰ کے الہام میں اور اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے یہ سب کام وہ قادر مطلق اپنے ہاتھ سے کر رہا ہے۔جس کا نام اللہ ہے۔جَلَّ جَلالُهُ۔