حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 564 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 564

حیات احمد ۵۶۴ جلد چهارم ”ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے (مرزا غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) - حفظ امن کی ضمانت لی جاوے یا یہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے۔لہذا وہ بری کئے جاتے ہیں۔۲۳ / اگست کو باوجود یکہ بارش ہو رہی تھی پھر بھی کثرت سے لوگ جماعت کے سوا فیصلہ سننے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔۱۲ بجے کے قریب حضرت کو بلایا گیا اور ہم لوگ آپ کے ساتھ کمرہ عدالت میں گئے ڈگلس صاحب نے فوراً ہی فرمایا ” مرزا صاحب آپ کو عزت سے بری کیا جاتا ہے آپ اگر چاہیں تو ڈاکٹر کلارک اور ان کے گواہوں پر مقدمہ کر سکتے ہیں۔حضرت اقدس نے جوا با فرمایا میں کسی پر مقدمہ کرنا نہیں چاہتا میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔اس وقت بے اختیار ڈگلس کے منہ سے یہ لفظ بھی نکل گئے تھے کہ اگر چہ یہ مقدمہ صرف عیسائیوں کی طرف سے تھا۔اور مجھ کو ایک بڑے پادری کا خط بھی آیا تھا۔مگر مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ انصاف کو چھوڑ دوں۔نوٹ۔ڈگلس نے تو کہا تھا کہ مجھ سے یہ بدذاتی نہیں ہو سکتی۔میں نے مفہوم لکھدیا۔( عرفانی ) فیصلہ کا ایک دلچسپ حصہ جو تصرفات الہیہ کا مظہر ہے تمام بیانات استغاثہ اور گواہان کے مکمل ہو جانے کے باوجود میجر ڈگلس کو مدعی جھوٹے ہونے کا یقین تھا اور اس کے قلب پر کچھ خاص تصرفات تھے جن کا اظہار مکرم راجہ غلام حیدر خاں صاحب مرحوم کے بیان اور خود فیصلہ کے ایک حصہ سے معلوم ہوتا ہے جو یہ ہے ”ہم نے بذات خود اس کے بیان کو سنا اور ہم نے نہایت ہی بعید العقل خیال کیا۔اس کے اس بیان میں جو اس نے امرتسر میں لکھایا بمقابلہ اس بیان کے جو میرے سامنے لکھایا اختلافات ہیں اور ہم اس کی وضع قطع سے جبکہ وہ شہادت دے رہا تھا مطمئن نہیں ہوئے تھے۔علاوہ اس کے ہم نے یہ معلوم کیا کہ جتنی دیر تک بٹالہ میں مشن کے ملازموں کی نگرانی میں رہا اتنا ہی اس کی شہادت مفصل اور طویل ہوتی گئی