حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 565
حیات احمد ۵۶۵ جلد چهارم اس کے پہلے بیان میں جو اس نے ۱۲ تاریخ کو میرے سامنے لکھایا بہت سی باتیں تھیں اس بیان میں نہیں تھیں جو اس نے اوّل ڈاکٹر کلارک کے سامنے کیا یا جب اس کا اظہار ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر نے لیا اور جب اس نے دوبارہ ہمارے سامنے ۱۳ اگست کو اظہار دیا تو اس نے بہت سی باتیں زائد بڑھا دیں۔اس سے یہ نتیجہ پیدا ہوا کہ یا تو کوئی شخص یا اشخاص اس کو سکھلاتے پڑھاتے ہیں یا یہ کہ اس کو اس سے اور زیادہ علم ہے جتنا کہ وہ اب تک ظاہر کر چکا ہے لہذا میں نے ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس کو کہا کہ آپ اس کو اپنی ذمہ داری میں لیں اور آزادانہ طور سے اس سے پوچھیں ۱۴ راگست کو مسٹر لیمار چنڈ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کو بھیجا کہ وہ عبدالحمید کو سی۔ایم۔ایس کوارٹر انار کلی میں جا کر حفاظت کی جگہ یہاں لے آؤ۔اس کو محمد بخش سیدھا مسٹر لیمار چنڈ کے پاس گاڑی میں لے گیا۔اوّل الذکر شخص اس وقت پہلے سے کسی کام میں مصروف تھا اور کچھ عرصہ کے لئے اس کو جلال الدین انسپکٹر کے سپرد کیا۔مؤخر الذکر نے کھلے میدان میں محمد بخش و دیگر اشخاص کی موجودگی میں اس سے پوچھا کچھ دیر کے بعد انسپکٹر مذکور نے مسٹر لیمار چنڈ کے پاس آکر بیان کیا کہ وہ لڑکا اپنے سابقہ بیان پر قائم ہے اور کچھ ایزاد نہیں کرتا اور وہ انارکلی واپس جانے کو چاہتا ہے۔انسپکٹر مذکور نے مسٹر لیمار چنڈ کو اطلاع دی کہ اس کو بھیج دیں۔مؤخر الذکر نے اس امر کو اپنا فرض سمجھا کہ جو کچھ نو جوان بیان کرے لکھ لیا جائے اس لئے اس کو بلا بھیجا انہوں نے بیان کے دو تختے کم و بیش اسی شہادت کے مطابق لکھے جو سابق میں عدالت کے سامنے دی گئی تھی کہ نا گہاں نوجوان زار زار رونے لگا اور مسٹر لیمار چنڈ کے پاؤں پر گر پڑا اور کہا کہ میں اس مقدمہ میں عبدالرحیم اور وارث الدین اور پر یمد اس ملا زمان مشن کی سازش سے جن کی تحویل میں وہ رہا برابر جھوٹ بولتا رہا۔وہ کئی روز تک پہرے میں رکھا گیا اور وہ سخت مصیبت میں گرفتار رہا اور