حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 563
حیات احمد ۵۶۳ جلد چهارم یعقوب اخبار نویس کی حاضری پر اعتراض ہے۔“ مولوی محمد حسین اشاعۃ السنہ میں جب میرا ذکر کرتا ہے تو یعقوب حواری لکھتا ہے اور ڈاکٹر کلارک یعقوب اخبار نو میں کہتا۔چنانچہ اس نے مقدمہ مورخہ ۱۳ اگست ۱۸۹۷ء میں سوالات جرح کے جواب میں کہا کہ ”مرزا صاحب کے مرید امرتسر میں بھی ہیں معلوم نہیں کہ کس قدر ہیں۔میں 66 قطب الدین۔یعقوب اخبار نویس اور ایک اور شخص مرید ان سے واقف ہوں۔“ غرض اس نے اعتراض کر دیا پنڈت رام بھیجدت صاحب نے اشارتاً ان کو منع کیا۔مگر اسے اصرار تھا۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ کیا اعتراض ہے وہ ایک اخبار نویس ہے اسے حق ہے اور حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا ” مجھے تو کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر ڈاکٹر صاحب کو اعتراض ہے کہ وہ میرا مرید ہے تو میں اسے کہہ دیتا ہوں کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے پاس خاطر سے باہر چلا جائے۔‘ چنانچہ میں حضرت کے حکم کی تعمیل پر باہر چلا آیا۔پنڈت رام بھیجدت صاحب نے جو میرے پرانے ملنے والے تھے ) مجھے آکر کہا ڈاکٹر تمہارے قلم کو تلوار سمجھتا ہے۔میں نے ہنستے ہوئے کہا اس کا وار وہاں تو نہیں ہوسکتا تھا۔اُس نے کہا قلم کا گھاؤ تلوار سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔پنڈت رام بھیجدت کی وکالت استفسار پر پنڈت جی نے صاف کہا کہ میں نے تو کوئی فیس نہیں لی صرف اس لئے شریک ہوگیا ہوں کہ شاید پنڈت لیکھرام کے قتل کا بھی کوئی سراغ مل جائے۔فیصلہ اور الہی تصرفات غرض یہ مقدمہ ۱۰ راگست کو شروع ہوا اور ۲۳ /اگست کو بمقام گورداسپور اس کا فیصلہ سنایا گیا۔اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت ابر آء کی بشارت دی تھی میجر ڈگلس نے لکھا کہ