حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 562
حیات احمد ۵۶۲ جلد چهارم راقم الحروف کمرہ عدالت میں راقم الحروف نے پہلے سے ایک درخواست بہ حیثیت اخبار نویس روئداد نوٹ کرنے کے لئے تیار رکھی تھی وہ خود آگے بڑھ کر پیش کرا دی۔اور صاحب ڈپٹی کمشنر نے مجھے اجازت دے دی اور آپ کی کرسی کے ذرا پیچھے دائیں طرف میرے لئے کرسی رکھوا دی اور میں نوٹ کرنے کے لئے تیار ہو بیٹھا۔مگر میری کرسی سے کوئی چارفیٹ کے فاصلہ پر ڈاکٹر کلارک اور پنڈت رام بھیجدت وکیل کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ڈاکٹر کلارک نے جب مجھے دیکھا تو اس نے اعتراض کیا کہ ” مجھے بقیہ حاشیہ۔رہے تھے۔پھر مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے پوچھا کہ کیا آپ ان دنوں امرت سر سے بٹالہ تک ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے ہم سفر تھے؟ اور آپ کا ٹکٹ بھی ڈاکٹر صاحب نے خرید کیا تھا؟ تو مولوی محمد حسین صاحب منکر ہو گئے۔بعض وقت انسان اپنے خیالات کا اظہار بلند آواز سے کرگزرتا ہے۔یہی حال اس وقت میرا بھی ہوا۔میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ یہ تو بالکل جھوٹ ہے۔“ تب ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب سے ڈپٹی کمشنر صاحب نے پھر پوچھا تو انہوں نے اقرار کیا کہ مولوی صاحب میرے ہم سفر تھے اور اُن کا ٹکٹ بھی میں نے ہی خریدا تھا۔“ اس پر صاحب ڈپٹی کمشنر صاحب حیران ہو گئے۔آخر انہوں نے یہ نوٹ مولوی محمد حسین صاحب کی شہادت کے آخر پر لکھا کہ گواہ کو مرزا صاحب سے عداوت ہے جس کی وجہ سے اس نے مرزا صاحب کے خلاف بیان دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اس لئے مزید شہادت لینے کی ضرورت نہیں۔مولوی محمد حسین صاحب شہادت کے بعد کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک آرام کرسی پڑی تھی اُس پر بیٹھ گئے۔کانٹیبل نے وہاں سے انہیں اٹھا دیا کہ کپتان صاحب پولیس کا حکم نہیں ہے۔‘“ پھر مولوی صاحب موصوف ایک بچھے ہوئے کپڑے پر جابیٹھے۔جن کا کپڑا تھا انہوں نے یہ کہ کر کپڑا کھینچ لیا کہ مسلمان ہو کر ، سرغنہ کہلا کر اور پھر اسی طرح جھوٹ بولنا۔بس ہمارے کپڑے کو نا پاک نہ کیجیے “ تب مولوی نورالدین صاحب نے اٹھ کر مولوی محمد حسین صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا۔اور کہا کہ ” آپ یہاں ہمارے پاس بیٹھ جائیں۔ہر ایک چیز کی حد ہونی چاہیے۔“ مجد داعظم جلد اصفحه ۴۱ ۵ تا ۵۴۴ حاشیه طبع اول مطبوعه ۱۹۳۹ء)