حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 513 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 513

حیات احمد ۵۱۳ جلد چهارم مہاجرین کریٹ کے لئے ہندوستان میں چندہ کی فہرست کھولی گئی۔اور جو چندہ حسین کامی کو دیا گیا تھا۔اس نے اس میں تغلب و خیانت کا ارتکاب کیا اور آخر یہ حقیقت کھل گئی اور حضرت اقدس نے جو فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔چنانچہ اخبارات میں یہ راز طشت از بام ہوا۔اور جس طرح پر حسین کامی نے ناظم الہند کے ذریعہ سب وشتم اور دریدہ دہنی سے کام لیا تھا اسی ہندوستان کے مسلم پریس نے اس پر لعن طعن کی اور جس ملک میں اسے عزت و احترام کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا وہاں ہی وہ ہدف ملامت بنا۔اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں سے جو اسے بڑا مقدس اور راستباز ظاہر کرتے تھے۔بقیہ حاشیہ۔دلوں کو زندہ کرنے والی تقریر سے جو جلسہ ء مذاہب لاہور میں پیش ہوئی میری تسلی ہو گئی جو محض افتراو بہتان ذات والا پر کسی نے باندھا۔(۲) بابت ترکوں کے آپ کے اُسی اشتہار ( میرے عرضی دعوی کے ) میری تسلی ہوگئی۔جس قدر آپ نے نکتہ چینی فرمائی وہ ضروری اور واجبی تھی۔(۳) بابت حضرت مسیح کے بھی ایک بے وجہ الزام پایا گیا۔گو یسوع کے حق میں آپ نے کچھ لکھا ہے جو ایک الزامی طور پر ہے جیسا کہ ایک مسلمان شاعر ایک شیعہ کے مقابل میں حضرت مولانا علی کے بارے میں لکھتا ہے۔آن جوانے بروت مالیده بہر جنگ و دغا مالیده بر خلافت دلش بیسے مائل لیک بوبکر شد میاں حائل تو بھی حضرت اگر ایسا نہ کرتے میرے خیال میں تو اچھا ہوتا جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔مگر ان باتوں کے علاوہ جس سے میرا دل تڑپ اٹھا اور اس سے یہ صدا آنے لگی کہ اٹھ اور معافی طلب کرنے میں جلدی کر۔ایسا نہ ہو کہ تو خدا کے دوستوں سے لڑنے والا ہو۔خدا وند کریم تمام رحمت ہے۔كَتَبَ عَلـى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ۔دنیا کے لوگوں پر جب عذاب نازل کرتا ہے تو اپنے بندوں کی ناراضی کی وجہ سے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا سے آپ کا خدا کے ساتھ معاملہ ہے تو کون ہے جو الہی سلسلہ میں دخل دیوے۔خدوند کی اُس آخری عظیم الشان کتاب کی ہدایت یاد آئی۔جو مومن آل فرعون کے قصہ میں بیان فرمائی گئی کہ جولوگ خدائی سلسلہ کا ادعا کریں اُن کی تکذیب کے واسطے دلیری اور پیش دستی نہ کرنی چاہیے نہ یہ کہ اُن کا انکار کرنا چاہیے۔وان يك كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ل النحل : ١٢٦ کے بنی اسرائیل: ۱۶ المؤمن: ٢٩