حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 514
حیات احمد ۵۱۴ جلد چهارم اس راز کا انکشاف حافظ عبدالرحمن امرت سری کے ایک خط کے ذریعہ سے ہوا۔جو اخبار نیر آصفی مدراس اور پنجاب کے اخبارات میں شائع ہوا۔کوئین وکٹوریہ کو تبلیغ اسلام اور جلسہ جو بلی کی تقریب ۱۸۹۷ء کے واقعات میں آپ کا وہ کارنامہ بھی شاندار ہے جو آپ نے کوئین وکٹوریہ (ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقعہ پر بارثانی ملکہ معظمہ کو تبلیغ اسلام کی۔میں اس کتاب میں ذکر کر آیا ہوں کہ آپ نے آئینہ کمالات اسلام کے وقت بھی تبلیغ اسلام کے لئے ایک مکتوب لکھا تھا۔بقیہ حاشیہ۔مگر یہ صرف میرا دلی خیال ہی نہیں رہا بلکہ اُس کا ظاہری اثر محسوس ہونے لگا۔کچھ ایسی بنائیں خارج میں پڑنے لگیں جس میں۔۔۔( اَعُوْذُ بِاللهِ) مصداق ہو جانے لگا۔( یعنی آثار خوف ظاہر ہوئے)۔چودہ سو برس ہونے کو آتے ہیں کہ خدا کے ایک برگزیدہ کے منہ سے یہ لفظ ہماری قوم کے حق میں نکلے تو کیا ؟ قدرت کو هَبَاءً منشُورًا کرنے کا خیال ہے (تُبْتُ اِلَيْكَ يَا رَبِّ ) کہ پھر ایک مقبول الہی کے منہ سے وہی کلمہ سن کر مجھے کچھ خیال نہ ہو۔پس یہ ظاہری خطرات مجھ کو اس خط کے تحریر کرتے وقت سب کے سب اڑتے ہوئے دکھائی دیئے (جن کی تفصیل کبھی میں پھر کروں گا ) اس وقت تو میں ایک مجرم گنہ گاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں ( مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں ظاہر حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں شاید جولائی ۱۸۹۸ء سے پہلے حاضر ہی ہو جاؤں۔ا حاشیہ۔نیر آصفی مدراس کا ایک ممتاز اور مشہور اخبار تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے ایڈیٹر مولوی سلطان محمود مرحوم کو دولت احمدیت سے سرفراز فرمایا وہ لکھتا ہے۔وو چندہ مظلومان کریٹ اور ہندوستان“ ہمیں آج کی ولایتی ڈاک میں اپنے ایک لائق معزز اور نامہ نگار کے پاس سے ایک قسطنطنیہ والی چٹھی ملی ہے جس کو ہم اپنے ناظرین کی اطلاع کے لئے درج ذیل کئے دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں کمال افسوس ہوتا ہے افسوس اس وجہ سے کہ ہمیں اپنی ساری امیدوں کے برخلاف اس مجرمانہ خیانت کو جوسب سے بڑی اور سب سے زیادہ مہذب و منتظم اسلامی سلطنت کے وائس قونصل کی جانب سے بڑی بے دردی کے ساتھ عمل میں