حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 512
حیات احمد ۵۱۲ جلد چهارم حسین کامی کا انجام ہندوستان میں تو حسین کامی کے سفر قادیان اور اس کی سفیہا نہ حرکات نے ایک عظیم الشان نشان ظاہر کر دیا۔مگر ابھی خود اس نے اس تو ہین و استہزا کا خمیازہ بھگتنا تھا۔چنانچہ اس کی ذلت کے سامان خود اس نے پیدا کر لئے اور همه کارش ز خودکامی به بدنامی کشید آخر ہمہ کا مصداق ہو گیا۔۱۸۹۶ء میں یونان اور روم کی جنگ ہوئی تھی اور مجروحین عساکر حرب یونان اور بقیہ حاشیہ۔رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا یہی راز ہے جو مسلمان ترکوں سے محبت کرتے ہیں کہ ان کی خیر میں ان کے دین و دنیا کی خیر ہے۔ورنہ ترکوں کا کوئی خاص احسان مسلمانانِ ہند پر نہیں بلکہ ہم کو سخت گلہ ہے کہ ہمارے پچھلی صدی کے عالمگیر کی تباہی میں جبکہ مرہٹوں دسکھوں کے ہاتھ سے مسلمانانِ ہند برباد ہورہے تھے ہماری کوئی خبر انہوں نے نہیں لی۔اس شکریہ کی مستحق صرف سر کا رانگریزی ہے جس کی گورنمنٹ نے مسلمانوں کو اس سے نجات دلائی تو ہماری ہمدردی کی وہی خاص وجہ ہے جو اوپر ذکر کی گئی۔اور اس کو خیال کر کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی سخت ترین مصیبت کے وقت تو مسلمانوں کے ایک سچے راہنما کا یہ کام ہوتا کہ وہ عاجزی سے گڑ گڑا کر خدا کے حضور میں اس تباہی سے بیڑے کو بچاتا۔کیا حضرت نوح کے فرزند سے زیادہ ترک گنہگار تھے تو بجائے اس کے کہ ان کے حق میں خدا کے حضور شفاعت کی جاتی ہے نہ الٹا جنسی سے ایسی بات بنائی جاتی۔(۳) و نیز یہ کہ حضرت والا نے حضرت مسیح کے بارے میں اپنی تصانیف میں سخت حقارت آمیز الفاظ لکھے ہیں جو ایک مقبول بارگاہ الہی کے حق میں شایان شان نہ تھے۔جس کو خداوند اپنی روح و کلمہ فرمائے جن کے حق میں میں يه خطاب هو وجيها في الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ سے پھر اس کی تو ہین اور اہانت کیونکر ہو سکتی۔یہ باتیں میرے دل میں بھری تھیں اور اُن کے تجس کے واسطے میں پھر کوشش کر رہا تھا کہ یہ کہاں تک صحیح ہیں کہ ناگاہ حضور کا اشتہار ٹر کی سفیر کے بارے میں جو نکلا۔پیش ہوا تو بے ساختہ میرے منہ سے ( سواکسی اور کلام کے ) مثنوی کا بیت نکل گیا جس پر آپ کو رنج ہوا ( اور رنج ہونا چاہیے تھا) (۱) رسالت کے دعوی کے بارے میں مجھ کو خو د ازالہ اوہام کے دیکھنے سے و نیز آپ کی وہ روحانی اور مردہ البقرة: ۲۸۷ ال عمران: ۴۶