حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 39
حیات احمد ۳۹ جلد چهارم بد باطن ہیں۔کچھ تعجب نہیں کہ وہ بظاہر بیعت میں داخل ہو کر آریوں کی طمع دہی سے اس کام کے لئے جرات کریں۔پھر صاحب راقم لکھتے ہیں کہ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مشورہ قتل کے سرگروہ اس شہر کے بعض وکیل اور چند عہدہ دار سرکاری اور بعض آریہ رئیس و سرکردگان لاہور کے ہیں۔جس قدر مجھے خبر پہنچی ہے میں نے عرض کر دیا۔وَاللهُ أَعْلَمُ۔اور اسی کا مصدق ایک خط پنڈ دادنخاں سے اور کئی اور جگہ سے پہنچے ہیں اور مضمون قریب قریب ہے۔یہ سب خط محفوظ ہیں۔اور جس جوش کو بعض آر یہ صاحبوں کے اخبار نے ظاہر کیا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ ایسے جوش کے وقت یہ خیالات بعید نہیں ہیں۔“ ( تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۴۶ ، ۴۷۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۵۱ ۵۲ طبع بار دوم ) ان خطوط نے حضرت پر کسی قسم کا اثر نہیں کیا۔یعنی کسی قسم کا خوف و ہراس آپ پر پیدا نہیں ہوا حالانکہ یہ بات ظاہر تھی اس قتل کے ڈانڈے پیش گوئی ۱۸۹۳ء سے ہی ملتے تھے اور پہلا شبہ آپ اور آپ کی جماعت پر ہوسکتا تھا اور ہوا بھی ، اور قتل کے منصوبے بھی ہوئے اور ایک عامی بھی سمجھ سکتا ہے کہ فریق مخالف ہر قسم کی طاقت اور قوت رکھتا تھا مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سال پیشتر آپ کو بشارت دی تھی وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔“ یعنی لوگ تیرے قتل کے ارادے اور منصوبے کریں گے۔اور اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا۔ایسا ہی بعض دوسرے الہامات ”انسی مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَی۔یعنی آپ کی وفات طبعی موت سے ہوگی اور غیر طبعی موت نہ ہوگی اور آپ کا رفع ہوگا۔ان ایام میں قادیان میں کوئی بڑی جماعت نہ تھی اور نہ آپ نے حفاظت وغیرہ کے کوئی مخصوص انتظام کئے۔حالانکہ اس قسم کے مشورے آپ کو دوسرے مسلمانوں کی طرف سے بھی دیئے گئے تھے۔