حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 40 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 40

حیات احمد جلد چهارم حکومت کو برافروختہ کرنے کی کوشش اک طرف تو اخبارات میں اس قتل کو سازش کا نتیجہ قرار دیا گیا اور دوسری طرف بذریعہ اخبارات اور گمنام خطوط کے قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور بلاشبہ سازشیں کی گئیں مگر ناکامی ہوئی۔اور جیسا کہ پہلے لکھ آیا ہوں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پیشگوئی پوری ہوئی جو آپ کے قتل سے محفوظ رہنے کے متعلق ہے۔اس کے علاوہ اخبارات میں اس پر بھی زور دیا گیا کہ حضرت اقدس کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ چلایا جائے اور مختلف طریقوں سے حکومت کو آمادہ کیا گیا۔اس زمانہ کے ہندو اخبارات سماچار، اخبار عام، ہمدرد ہند، رئیس ہند وغیرہ میں برابر مضامین نکلتے رہے۔اس ساری کیفیت کو خود حضرت اقدس نے سراج منیر اور دوسری کتابوں نزول المسيح ، حقيقة الوحی وغیرہ میں تفصیل سے لکھا ہے۔گورنمنٹ وقت کا تو بجائے خود فرض تھا کہ اس واقعہ قتل کی تحقیقات کی جاوے چنانچہ حکومت کے مشہور اور ماہر سراغ رساں اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر ہوئے اور آریہ سماج نے اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا اور بڑے انعامات کے وعدے دیئے گئے۔لیکن جہاں کوئی قاتل نہ پکڑا گیا وہاں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حضرت اقدس کا یا آپ کی جماعت کا ہاتھ اس قتل میں نہیں۔حادث قتل کے بعد مسلمانوں پر بڑا برا وقت آیا۔معزز اصحاب کی تلاشیاں لی گئیں اور پولیس کی پوچھ گچھ کا تو حساب ہی نہیں اور بعض بچوں کو انتظامی رنگ میں زہر دیا گیا۔اس قسم کی تفصیلات اس عہد کے اخبارات میں موجود ہیں۔مجھے پر شبہ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس حادث قتل میں خاکسار عرفانی سے بھی استفسار کی نوبت آئی۔میں ان ایام میں امرتسر میں مقیم تھا۔اور میری صحافی سرگرمیوں اور سلسلہ کے متعلق تبلیغی دلچسپیوں کی وجہ عوام اور حکومت کے مقامی عہدہ داروں میں مجھے ایک شہرت حاصل تھی اور مکرم