حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 38
حیات احمد ۳۸ جلد چهارم ایسا ہی رہبر ہند لا ہور نے ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں لکھا۔" کہتے ہیں کہ ہند و قادیان والے کو قتل کر آئیں گے۔اور یہ بھی افواہ ہے کہ علی گڑھ والے بوڑھے کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔“ تبلیغ رسالت جلد 4 صفحہ ۶۷۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۶۸ طبع بار دوم ) علاوہ ازیں حضرت کی خدمت میں مختلف مقامات سے بعض خطوط ان سازشوں کے متعلق آئے جو آپ کے قتل کے متعلق کی جارہی تھیں۔ان خطوط کا ذکر آپ نے ایک اعلان مورخہ ۱۵ / مارچ ۱۸۹۳ء میں کیا ہے اور گوجرانوالہ کے ایک معزز رئیس کے خط کا مندرجہ ذیل اقتباس بھی دیا ہے۔یہ بھی ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ مختلف مقامات پنجاب سے کئی خط میرے پاس پہنچے ہیں جن میں بعض آر یہ صاحبوں کے جوشوں اور نامناسب منصوبوں کا تذکرہ ہے۔میرے پاس وہ خط بحفاظت موجود ہیں اور اس جگہ کے بعض آریوں کو میں نے وہ خط دکھلا دیئے ہیں۔چنانچہ ایک خط جو گوجرانوالہ سے ایک معزز اور رئیس کا مجھ کو پہنچا ہے اُس کا مضمون یہ ہے کہ اس جگہ دو دن تک جلسہ ماتم لیکھرام ہوتا رہا اور قاتل کے گرفتار کنندہ کے لئے ہزار روپیہا انعام قرار دیا ہے۔اور دوسو اُس کے لئے جو نشان دہی کرے۔اور خارجاً سنا گیا ہے کہ ایک خفیہ انجمن آپ کے قتل کے لیے منعقد ہوئی ہے اور اس انجمن کے ممبر قریب قریب شہروں کے لوگ ( جیسے لا ہور ، امرتسر ، بٹالہ اور خاص گوجرانوالہ کے ہیں ) منتخب ہوئے ہیں۔اور تجویز یہ ہے کہ ہیں ہزار روپیہ چندہ ہو کر کسی شریر طامع کو اس کام کے لئے مامور کریں تا وہ موقعہ پا کر قتل کر دے۔چنانچہ دو ہزار روپیہ تک چندہ کا بندوبست ہو بھی گیا ہے پھر صاحب راقم لکھتے ہیں کہ اگر چہ آپ حافظ حقیقی کی حمایت میں ہیں تاہم رعایت اسباب ضروری ہے اور میرے نزدیک ایسے وقت میں شریر مسلمانوں سے بھی پر ہیز لازم ہے۔کیونکہ وہ طامع اور