حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 472
حیات احمد ہاں یہ بات صحیح اور درست ہے کہ اگر مولوی غلام دستگیر صاحب مباہلہ میں ا جلد چهارم کا ذب اور کافر اور مفتری پر بمقابلہ مومن اور راستباز کے فوری عذاب نازل ہونا ضروری سمجھتے ہیں تو بہت خوب ہے۔وہ اپنا فوری عذاب ہم پر نازل کر کے دکھلا دیں۔اُن کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ”میں تو نبوت کا مدعی نہیں کہ تا فوری عذاب نازل کروں۔ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ کے قائل ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمد یہ اور باتباع آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم اولیاء اللہ کوملتی ہے اس کے ہم قائل ہیں اور اس سے زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگا وے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے اور اگر قرآنی الہامات سے کوئی کافر ہو جاتا ہے تو پہلے یہ فتویٰ کفر سید عبدالقادر رضی اللہ عنہ پر لگانا چاہیے کہ انہوں نے بھی قرآنی الہامات کا دعوی کیا ہے۔غرض جبکہ نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں۔صرف ولایت اور مجد دیت کا دعویٰ ہے۔اور مولوی غلام دستگیر صاحب مجھ کو باوجود کلمہ گو اور اہلِ قبلہ ہونے کے کافر ٹھہراتے ہیں اور اپنے تئیں مومن قرار دیتے ہیں جو قرآن شریف کے بیان کے موافق ولی اللہ ہوتا ہے اور شیخ محمد حسین بطالوی کے فتویٰ میں ان تمام علماء نے مجھے انفر قرار دیا ہے یعنی یہ شخص کفر میں یہود اور نصاری سے بڑھ کر ہے۔پھر جس حالت میں نجران کے نصاری کو فوری عذاب کا وعدہ دیا گیا تھا تو مولوی صاحب جو عالم اسلام ہوکر بزعم خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گڈی پر بیٹھے ہیں ان کو چاہیے کہ ایسے شخص کے لئے جوان کی نظر میں اکفر ہے نجران کے نصاری سے بھی جلد تر عذاب نازل ہونے کا وعدہ کریں۔یہ تو ظاہر ہے کہ مباہلہ میں فریقین کی ہر یک فریق مقابل کے عذاب کے لئے درخواست ہوتی ہے کیونکہ مباہلہ دوسرے لفظوں میں مُلا عنه ہے۔یعنی کا ذب