حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 473 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 473

حیات احمد ۴۷۳ جلد چهارم کے لئے خواہ فریقین میں سے کوئی کا ذب ہو۔عذاب کی درخواست۔پس یہ مولوی صاحب موصوف کی کس قدر زبردستی ہے کہ اپنے عذاب کے اثر کی تو کوئی میعاد نہیں ٹھہراتے اور مجھ سے فوری عذاب مانگتے ہیں۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے الہام کے موافق ایک سال کا وعدہ کرتا ہوں۔اگر مولوی صاحب کے نزدیک یہ وعدہ خلاف سنت ہے تو کوئی ایسی صحیح حدیث پیش کریں جس سے سمجھا جائے کہ فوری عذاب مباہلہ کے لئے شرط ضروری ہے یعنی یہ کہ فورا کاذب یا مکذب کے صدق کا اثر فریق ثانی پر ظاہر ہو۔حضرت مولوی غلام دستگیر صاحب کو کافر بنانے کا بہت ہی شوق ہے۔لہذا ہم اُن کو خوشخبری دیتے ہیں کہ عبد الحق غزنوی کے مباہلہ کے بعد آٹھ ہزار تک ہماری جماعت پہنچ گئی ہے گویا امت محمدیہ میں سے آٹھ ہزار آدمی کا فر ہو کر اس دین سے خارج ہو گیا۔یقین ہے کہ آئندہ سال تک اٹھارہ ہزار تک عدد پہنچ جاوے گا۔بالآخر یاد رہے کہ مولوی صاحب موصوف نے اول ایک سال کا وعدہ اپنے خطوط میں قبول کر لیا تھا۔مگر یہ شرط کی تھی کہ تمام جہان کے مسلمان جو آپ کے دعوئی کو نہیں مانتے مر جائیں۔اب اس اشتہار میں مولوی صاحب نے تمام جہان کی جان بخشی کی اور بجائے اس کے اپنے نفس کے لئے فوری عذاب کو پیش کر دیا۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے نزدیک ضرورت کے وقت کذب کا استعمال بھی جائز ہے۔بھلا ہم حضرت موصوف سے دریافت کرتے ہیں کہ کب اور کس وقت میرے دوست مولوی حکیم فضل دین صاحب آپ سے ڈر کر قادیان میں بھاگ آئے تھے۔کیا آپ نے حکیم صاحب موصوف کو خود نہیں لکھا تھا کہ ”میں تم سے خطاب نہیں کرنا چاہتا۔براہ راست خود خط لکھوں گا۔خیر ہمیں اس کذب پر کچھ افسوس بھی نہیں۔جب آپ نے ہمیں انفر بنایا۔بے دین بنایا۔دجال بنایا۔تکفیر کے لئے حرمین تک