حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 471 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 471

حیات احمد ۴۷۱ جلد چهارم کہ میں او پر لکھ آیا ہوں اُس نے راہ فرار کے لئے ایک حیلہ پیدا کیا حضرت اقدس نے اس کے جواب میں مندرجہ حاشیہ عنوان سے ذیل کا اعلان شائع کیا۔کل ۱۲۴ جنوری ۱۸۹۷ء کو ایک اشتہار مولوی غلام دستگیر صاحب میرے پاس پہنچا جس میں مولوی صاحب موصوف مباہلہ کے لئے مجھے بلاتے ہیں اور ۲۵/ شعبان ۱۳۱۴ھ تاریخ مقرر کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی ہے کہ اُسی وقت مولوی صاحب پر کوئی عذاب نازل ہو اگر بعد میں ایک سال کے اندر نازل ہوا تو پھر وہ منظور نہیں۔مگر میں ناظرین کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ مولوی صاحب کی سراسر زبر دستی ہے۔تمام احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی میعا داثر مباہلہ کی ایک برس رکھا ہے۔ہاں یہ بیچ ہے کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے وحی پا کر اپنے مباہلہ کا اثر بہت جلد ناظرین مباہلین پر وارد ہونے والا بیان فرمایا ہے۔سو اس سے برس کی میعاد منسوخ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ حدیث میں جو ایک برس کی قید ہے اس سے بھی یہ مراد نہیں ہے کہ برس کا پورا گزر جانا ضروری ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ برس کے اندر عذاب نازل ہو۔گو دو منٹ کے بعد نازل ہو جائے۔سوئیں بھی اس بات پر ضد نہیں کرتا کہ ضرور برس پورا ہو جائے۔شاید خدا تعالیٰ بہت جلد اس تکفیر اور تکذیب کی پاداش میں آسمانی عذاب نازل کرے۔مگر مجھے معلوم نہیں کہ برس کے کس حصہ میں یہ عذاب نازل ہوگا۔آیا ابتدا میں یا درمیان میں یا اخیر میں اور میں مامور ہوں کہ مباہلہ کے لئے برس کی میعاد پیش کروں۔اور مولوی صاحب موصوف اور ہر یک شخص خوب جانتا ہے کہ برس کی میعاد مسنون ہے کہ لَــمــا حـال الـحـولُ کا وہ لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے۔اگر مباہلہ کے لئے فوراً عذاب نازل ہونا شرط ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حول کا لفظ منہ سے نہ نکالتے کیونکہ اس صورت میں کلام میں تناقض پیدا ہو جاتا ہے۔