حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 470 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 470

حیات احمد ۴۷۰ جلد چهارم مصیبت انہیں آئی تو میں تمام لوگوں کو گواہ کرتا ہوں کہ بغیر عذر و حیلہ اُن کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔اور سمجھوں گا کہ میں جھوٹا تھا تب ہی خدا نے ذلیل مجھے کیا۔اور اگر میں مباہلہ کے اثر سے ایک برس کے اندر مر گیا تو میں اپنی تمام جماعت کو وصیت کرتا ہوں کہ اس صورت میں نہ صرف مجھے جھوٹا سمجھیں بلکہ اگر میں مروں یا ان عذابوں میں سے کسی عذاب میں مبتلا ہو جاؤں تو وہ دنیا کے سب جھوٹوں اور کذابوں میں سے زیادہ کذاب مجھے یقین کریں۔اور ان ناپاک اور گندے مفتریوں میں سے مجھے شمار کریں جنہوں نے جھوٹ بول کر اپنی عاقبت کو خراب کیا اور اگر میں دس شعبان تک بمقام لاہور مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوا تب بھی مجھے کاذب قرار دیں۔لیکن ضرور ہے کہ اوّل مولوی غلام دستگیر صاحب عزم بالجزم کر کے اس نمونہ کا اپنی طرف سے بقید تاریخ اشتہار دے دیں اور اگر وہ اشتہار نہ دیں تو پھر میں لاہور نہیں جاسکتا۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشـ مرزا غلام احمد مکرر یہ بھی اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر اور صاحب بھی علمائے پنجاب یا ہندوستان سے مباہلہ کا ارادہ رکھتے ہوں تو بھی اسی تاریخ پر بمقام لاہور مباہلہ کے لئے حاضر ہوکر مولوی غلام دستگیر کے ساتھ شریک ہو جائیں اور اگر حاضر نہیں ہوں گے تو پھر آئندہ ان کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔مولوی غلام دستگیر صاحب کے اشتہار کا جواب اس اعلان کے جواب میں مولوی غلام دستگیر صاحب نے ایک اعلان شائع کیا جس میں مسنون میعاد نزول عذاب کی خلاف ورزی کر کے فوری عذاب کا مطالبہ کیا اور اس طرح پر جیسا