حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 469
حیات احمد بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ اشتہار صداقت آثار جلد چهارم میں مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضی ساکن قادیان ضلع گورداسپور اس وقت بذریعہ اشتہار کے خاص و عام کو مطلع کرتا ہوں کہ میرا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح وفات پاگئے جیسا کہ اللہ جَلَّ شَانُه فرماتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ حدیث نبوی اور قول ابن عباس نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس لفظ اور نیز لفظ إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ کے معنے وفات دینا ہے۔نہ اور کچھ کیونکہ اس مقام میں اس لفظ کی شرح میں کوئی روایت مخالف مروی نہیں۔نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کسی صحابی سے۔پس یہ امر متعین ہو گیا کہ نزول مسیح سے مراد نزول بطور بروز ہے یعنی اس امت سے کسی کا مسیح کے رنگ میں ظاہر ہونا ہے جیسا کہ حضرت الیاس کے نزول کی شرح کی طرح حضرت عیسی نے فرمائی تھی۔جو یہود اور نصاریٰ کے اتفاق سے وہ یہی شرح ہے کہ انہوں نے حضرت بیٹی کو ایلیا یعنی الیاس آسمان سے اترنے والا قرار دیا تھا سو خدا تعالیٰ کے الہام سے میرا دعویٰ یہ ہے کہ وہ مسیح جو بروز کے طور پر غلبہ صلیب کے وقت میں کسر صلیب کے لئے اترنے والا تھا وہ میں ہی ہوں اس بناء پر مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری سے مباہلہ کرتا ہوں اگر مباہلہ کی میعاد کے اندر جو روز مباہلہ سے ایک برس ہوگی میں کسی سخت اور نا قابل علاج بیماری میں جیسے جذام یا نا بینائی یا فالج یا مرگی یا کوئی اسی قسم کی اور بھاری بیماری یا مصیبت میں مبتلا ہوگیا اور یا یہ کہ اس میعاد میں مولوی غلام دستگیر نہ فوت ہوئے۔نہ مجزوم ہوئے اور نہ نابینا اور نہ کوئی اور سخت ل التحل: ١٢٩ المائدة: ١١٨