حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 37 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 37

حیات احمد ۳۷ جلد چهارم اس اشتہار سے آپ کی سیرت اور آپ کے ایمان باللہ پر بھی روشنی پڑتی ہے۔غرض اس قتل کے بعد لازمی طور پر ایک ہنگامہ محشر پیدا ہو گیا۔اور آریہ سماج اور سناتن دھرمی باوجود یکہ اس وقت وہ مذہبی عقائد کے لحاظ سے ایک دوسرے کے سخت خلاف تھے فریقین کی تقریریں اور تحریریں ایک شعلہء نار نظر آتی تھیں اور خود آریہ سماج کے ہر دو فریق بھی اپنے اختلافات کی وجہ سے باہم کشیدہ تھے مگر اس قتل کے بعد وہ حضرت اقدس کے خلاف خصوصاً اور عام مسلمانوں کے خلاف عموماً انتقامی جذبہ سے متحد ہو گئے۔مختلف اخبارات میں واقعات سرا سر چشم پوشی کر کے حضرت اقدس کے قتل کے اعلان کئے گئے۔حضرت کے قتل کی سازش ނ چنانچہ اخبار آفتاب ہند جالندھر نے مورخہ ۱۸ / مارچ ۱۸۹۷ء میں زیر عنوان ”مرزا قادیانی خبر دار“ لکھا۔میں اس وقت خاص طور پر ایک اور بات کی طرف گورنمنٹ کو توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اخبار آفتاب ہند مطبوعہ ۱۸ مارچ ۱۸۹۷ء کے صفحہ ۵ پہلے کالم میں ایک صاحب ہند و بیشینشر داس میری نسبت ایک مضمون لکھتے ہیں جس کا عنوان یہ ہے۔”مرزا قادیانی خبر دار اور پھر تحریر فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی امروز فردا کا مہمان ہے۔بکرے کی ماں کب تک خیر مناسکتی ہے۔آج کل اہل ہنود کے خیالات مرزا قادیانی کی نسبت بہت بگڑے ہوئے ہیں بلکہ عموماً مسلمانوں کی بابت۔پس مرزا قادیانی کو خبر دار رہنا چاہیے کہ وہ بھی بکر عید کی قربانی نہ ہو جاوے۔“ تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۶۷۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۶۸ طبع بار دوم ) حاشیہ۔آفتاب ہند جالندھر وہ اخبار ہے جس میں میں نے سب سے پہلا مضمون ” آسمان کو زمین اور زمین کو آسمان کیوں نہیں کہتے، ۱۸۸۷ء میں ترکمان کے نام سے لکھا تھا۔گویا یہی میری اخبار نویسی کی ابتدا ہے۔اور اس اخبار کا ایڈیٹرمنشی برکت علی صاحب براہین احمدیہ کی پہلی دوسری جلد کی طباعت واشاعت کے وقت پادری رجب علی صاحب کے مطبع میں ملازم تھا ( عرفانی الاسدی)