حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 468
حیات احمد ۴۶۸ جلد چهارم حضرت اقدس کی زندگی میں فوت ہو گیا۔چنانچہ حضرت صاحب کی تصانیف میں اس نشان کو درج کیا گیا ہے۔جس کا ذکر آگے آئے گا۔مباہلہ کے متعلق خط و کتابت ذیل میں اُس خط و کتابت کو درج کیا جاتا ہے جو اس خصوص میں ہوئی۔از غلام دستگیر ہاشمی قصوری كَانَ اللهُ لَهُ مرزا غلام احمد قادیانی بعد السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهدی واضح ہو کہ رسائل اربعہ مرسلہ آپ کے فقیر کو پہنچے آپ نے جوان میں درخواست مباہلہ کر کے فقیر کو بھی مباہلہ کے لئے بلایا ہے سو فقیر بعد از استخارہ مسنونہ آپ کو اطلاع دیتا ہے کہ فقیر آپ کے ساتھ مباہلہ کے واسطے از تہ دل مستعد ہے۔آپ اب اس میں طوالت نہ کریں۔شعبان کے ابتدا میں لاہور آجائیں۔فقیر بھی امروز فردا لاہور پہنچ جاتا ہے اپنے دونوں فرزندوں کو لے کر اپنے عزیزوں سے مل کر فقیر سے مباہلہ کر لیں یہ قید کہ کم سے کم دس آدمی حاضر ہوں جو صفحہ ۶۷ کی سطر ۶ و ۱۷ میں درج ہے۔شرعاً بے اصل ہے لاہور کے مدعو مولویوں سے اگر کوئی صاحب فقیر سے شامل ہو جائے تو فبہا۔ورنہ ایک ہی فقیر حاضر ہے آپ نے اگر پندرہ شعبان تک مباہلہ نہ کیا تو آپ کا ذب متصور ہوں گے اور فقیر اس امر کو مشتہر کر دے گا۔فقط حضرت اقدس کا اعلان المرقوم ۲۹ ؍ رجب روز دوشنبه ۱۳۱۴ از قصور مسجد کلاں حضرت اقدس نے اس پر ایک اعلان شائع کیا۔جس کو حضرت حکیم فضل الدین خاکسار راقم الحروف اور حضرت قریشی محمد حسین صاحب لے کر گئے تھے۔