حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 467
حیات احمد ۴۶۷ جلد چهارم حافظ محمد یوسف ضلعدار، خان بہادر سید فتح علی شاہ ڈپٹی کلکٹر انہار کی تحریک پر اپنے ساتھ لے گئے میں اگر چہ اُمّی محض تھا مگر حق کی قوت اور فطرت میرے ساتھ تھی۔میں نے قصور میں عام لیکچر دیئے اور مولوی غلام دستگیر صاحب کے حلقہ کے بعض علماء سے بذریعہ مراسلات گفتگو کی اور مولوی غلام دستگیر صاحب سے بھی۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کا کرشمہ ہے کہ مجھے ان لوگوں گفتگو کرنے میں کبھی جھجک نہ ہوتی تھی اور نہ میں اُن کی دستار فضیلت سے مرعوب ہوتا تھا۔غرض یہ سلسلہ چلتا رہا اس کے بعد جب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے رسائل اربعہ شائع کئے۔جن میں علماء مکفرین کو دعوت مباہلہ دی تو مولوی غلام دستگیر صاحب کو بھی مباہلہ کے لئے بلایا تھا۔مولوی غلام دستگیر صاحب نے اس مباہلہ کے اشتہار کا جواب دیا۔اور مباہلہ پر آمادگی کا اظہار کیا اور ایک خط لکھا اور لاہور آ گیا۔حضرت اقدس نے اس خط کے جواب میں حکیم حضرت فضل الدین صاحب رضی اللہ عنہ کو ایک اشتہار کا مسودہ دے کر لاہور بھیجا اور یہ اشتہار چھپوا کر شعبان کی ابتدائی تاریخوں میں غالبا ۳ یا ۴ تاریخ تھی مولوی غلام دستگیر صاحب کو جا کر دیا گیا۔حکیم صاحب کے رض ساتھ جانے والوں میں جہاں تک میری یاد میری مدد کرتی ہے حضرت حکیم محمد حسین قریشی " بھی تھے اور میں خود بھی تھا۔مولوی غلام دستگیر صاحب نے تو صرف ایک بہانہ تلاش کیا تھا۔مگر حضرت نے اس کا خود ہی جواب نہ دے کر اشتہار دیا۔اور لاہور میں اسے تقسیم کیا گیا میرے مخطوطات میں وہ محفوظ تھا اور اس مسودے کی تفصیلی روئداد بھی۔مولوی غلام دستگیر صاحب سے جواب بذریعہ اشتہا ر طلب کیا گیا تھا اس نے زبانی کہا کہ میں تو مباہلہ کے لئے آ گیا۔اس پر حکیم صاحب نے کہا کہ آپ اس خط کا جواب اشتہار سے شائع کرو۔حضرت اقدس دس شعبان تک آجاویں گے۔مگر وہ اس پر رضامند نہ ہوا اور چلا گیا مگر اس نے ایک کتاب میں مباہلہ کر لیا اور مباہلہ کے موافق رسائل اربعه یعنی انجام آتھم خدا کا فیصلہ دعوت قوم مکتوب عربی بنام علماء۔“ یہ چاروں رسائل روحانی خزائن جلد میں شائع شدہ ہیں۔( ناشر )