حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 36
حیات احمد ازالہ ء وہم ۳۶ { جلد چهارم بعض ہندو اخبارات مثل پنجاب سماچار وغیرہ نے یہ غلطی کھائی کہ اس سے یہ سمجھا کہ قتل عید کے دن واقع ہوگا۔حالانکہ اس الہامی شعر میں صاف بتایا گیا ہے کہ اس نشان کے وقوع اور عید میں فصل ہوگا۔پہلے عید ہوگی اور اس کے بعد اس نشان کا ظہور ہوگا۔اور اسی طرح پر وقوع میں آیا که در مارچ ۱۸۹۷ء کو عید تھی اور ۶ مارچ کو قتل ہوا۔توضیح ضمنا کرنی پڑی دراصل سلسلہ ءِ واقعات میں اب ہم اس جگہ تک آپہنچے کہ پنڈت جی ایک آباد محلہ میں جو خصوصیت سے ہندو محلہ تھا اور جس کا راستہ آگے بند تھا اور ایک تقریب بھی ہو رہی تھی یہ واقعہ روز روشن میں ہوا۔قادیان میں یہ خبر جب پہنچی تو آپ نے ایک اشتہار اور مارچ ۱۸۹۷ء کو شائع کیا جس کا کچھ حصہ حاشیہ میں درج ہے۔حاشیہ۔اگر چہ انسانی ہمدردی کی رو سے ہمیں افسوس ہے کہ اس کی موت ایک سخت مصیبت اور آفت اور ناگہانی حادثے کے طور پر عین جوانی کے عالم میں ہوئی لیکن دوسرے پہلو کی رو سے ہم خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں جو اس کے منہ کی باتیں آج پوری ہو گئیں۔ہمیں قسم ہے اس خدا کی جو ہمارے دل کو جانتا ہے کہ اگر وہ یا کوئی اور کسی خطرہ موت میں مبتلا ہوتا اور ہماری ہمدردی سے وہ بیچ سکتا تو ہم بھی کبھی فرق نہ کرتے۔کیونکہ خدا کی باتیں بجائے خود اپنے لئے ایک وقت رکھتی ہیں۔مگر انسان کو چاہیے کہ انسانی اخلاق اور انسانی ہمدردی سے کسی حالت میں درگزر نہ کرے کہ یہی اعلیٰ درجہ خلق کا ہے۔مگر نہ ہم اور نہ کوئی اور خدا کی قرار دادہ باتوں کو روک سکتا ہے۔اس وقت مناسب ہے کہ ہمارے سب مخالف اپنے دلوں کو پاک کر کے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء اور اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء جو آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شامل ہے اور اشتہار ٹائیٹل پیج برکات الدعا وغیرہ کو دلی توجہ سے پڑھیں اور پاک دل ہو کر سوچیں کہ کیونکر اس موت کا خدا تعالیٰ نے پہلے نقشہ کھینچ کر دکھا دیا ہے۔دیکھو دنیا میں کیسی وبائے طاعون شروع ہو گئی ہے۔یہ غفلت اور سخت دلی کی شامت ہے اب ہر یک قوم کو چاہیے کہ عمل صالح میں کوشش کریں اور واہیات باتیں چھوڑ دیں۔“ تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۳۷۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۴۳ طبع بار دوم )