حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 413
حیات احمد ۴۱۳ جلد چهارم گری ہوئی ہو۔بلکہ الہی کتاب کی اوّل نشانی تو یہی ہے کہ جس نبوت اور عقیدہ کی اس نے بنیاد ڈالی ہے اس کو معقولی طور پر ثابت بھی کرتی ہو کیونکہ اگر وہ اپنے دعاوی کو ثابت نہیں کرتی بلکہ انسان کو گرداب حیرت میں ڈالتی ہے تو ایسی کتاب کو منوانا اِکراہ اور جبر میں داخل ہوگا۔اور یہ بات نہایت صاف اور سریع الفہم ہے کہ وہ کتاب جو حقیقت میں کتاب الہی ہے وہ انسانوں کی طبیعتوں پر کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالتی اور ایسے ور مخالف عقل پیش نہیں کرتی جن کا قبول کرنا اکراہ اور جبر میں داخل ہو کیونکہ کوئی عقل صحیح تجویز نہیں کر سکتی جو دین میں اکراہ اور جبر جائز ہو اسی واسطے اللہ جَلَّ شَانُهُ نے قرآن کریم میں فرمایا لَا إِكْرَاهَ فِي الدّین۔جب ہم انصاف کے ساتھ سوچتے ہیں کہ الہی کتاب کیسی ہونی چاہیے تو ہمارا نور قلب بڑے زور سے شہادت دیتا ہے کہ الہی کتاب کے چہرہ کا حقیقی خلیہ یہی ہے کہ وہ اپنی روشنی سے علمی اور عملی طریقوں میں حق الیقین کا آپ راہ دکھاتی ہو اور پوری بصیرت بخش کر اسی جہان میں بہشتی زندگی کا نمونہ قائم کر دیتی ہو کیونکہ الہی کتاب کا زندہ معجزہ صرف یہی ہے کہ وہ علم اور حکمت اور فلسفہ حقہ کی معلم ہو اور جہاں تک ایک سوچنے والے کے لئے روحانی حقائق کے سلسلہ کا پتہ لگ سکتا ہو وہ تمام حقائق اس میں موجود ہوں اور صرف مدعی نہ ہو بلکہ اپنے ہر یک دعوی کو ایسے طور سے ثابت کرے کہ پوری تسلی بخش دیوے اور جس تعمق اور إمعان کے ساتھ اس پر نظر ڈالی جاوے صاف دکھائی دے کہ فی الواقعہ وہ ایسا ہی معجزہ اپنے اندر رکھتی ہے کہ دینی امور میں انسانی بصیرتوں کو ترقی دینے کے لئے اعلیٰ درجہ کی مددگار اور اپنے کاروبار کی آپ ہی وکیل ہے۔بالآخر میں اپنے ہر مخالف کو مخاطب کر کے علانیہ طور پر متنبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ فی الواقعہ اپنی کتابوں کو منجانب اللہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس ذات کامل البقرة: ۲۵۷