حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 414
حیات احمد ۴۱۴ جلد چهارم سے صادر ہیں جو اپنی پاک کتاب کو اس شرمندگی اور ندامت کا نشانہ بنانا نہیں چاہتا کہ اس کی کتاب صرف بیہودہ اور بے اصل دعووں کا مجموعہ ٹھہرے جن کے ساتھ کوئی ثبوت نہ ہو تو اس موقعہ پر ہمارے دلائل کے مقابل پر وہ بھی دلائل پیش کرتے رہیں کیونکہ بالمقابل باتوں کو دیکھ کر حق سمجھ آجاتا ہے اور دونوں کتب کا مواز نہ ہوکر ضعیف اور قوی اور ناقص اور کامل کا فرق ظاہر ہو جاتا ہے لیکن یا درکھیں کہ آپ ہی وکیل نہ بن بیٹھیں بلکہ ہماری طرح دعوئی اور دلیل اپنی کتاب میں سے پیش کریں اور مباحثہ کے نظام کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ بات بھی لازم پکڑیں کہ جس دلیل سے اب ہم شروع کرتے ہیں اسی دلیل کا وجود اپنے بالمقابل رسالہ میں اپنی کتاب سے نکال کر دکھلاویں۔علی ہذا القیاس ہمارے ہر یک نمبر کے نکلنے کے مقابل اسی دلیل کو اپنی کتاب کی حمایت میں پیش کریں جو ہم نے اس نمبر میں پیش کی ہو۔اس انتظام سے بہت جلد فیصلہ ہو جائے گا کہ ان کتابوں میں سے کون سی کتاب اپنی سچائی کو آپ ثابت کرتی ہے اور معارف کا لا انتہا سمندر اپنے اندر رکھتی ہے اب ہم خدا تعالیٰ سے توفیق پا کر اول نمبر کو شروع کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یا الہی سچائی کی فتح کر اور باطل کو ذلیل اور مغلوب کر کے دکھلا۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ العَلِيِّ الْعَظِيم۔امين ( نور القرآن نمبرا، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۰ تا ۳۳۳) اس حصہ اول میں آپ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت نہایت لطیف پیرا یہ میں بیان کی ہے اور دلیل کو ایسے رنگ میں پیش کیا ہے کہ وقت واحد میں قرآنِ کریم کا منجانب اللہ ہونا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا افضل الرسل اور خاتم النبین ہونا ثابت ہوتا ہے۔اور اسی ضمن میں مذاہب باطلہ کا رڈ ایسے پیرا یہ میں کیا ہے کہ معمولی علم و عقل کے انسان پر بھی حق کھل جاتا ہے۔