حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 412
حیات احمد ۴۱۲ جلد چهارم چونکہ اس زمانہ میں طرح طرح کے غلط خیالات ہر ایک قوم میں ایسے طور سے پھیل گئے ہیں کہ ان کے بداثر ان سادہ دلوں کو موت تک پہنچاتے جاتے ہیں جن میں دینی فلسفہ کی تصویر کامل طور پر موجود نہیں یا ایسی سطحی طور پر کھینچی گئی ہے جس کو سوفسطائی تو ہمات جلد مٹا سکتے ہیں۔اس لئے میں نے محض زمانہ کی موجودہ حالت پر رحم کر کے اس ماہواری رسالہ میں ان باتوں کو شائع کرنا چاہا جن میں ان آفات کا کافی علاج ہو اور جو راہ راست کے جاننے اور سمجھنے اور شناخت کرنے کا ذریعہ ہوں اور جن سے وہ سچا فلسفہ معلوم ہو جو دلوں کو تسلی دیتا اور روح کو سکینت اور آرام بخشا اور ایمان کو عرفان کے رنگ میں لے آتا ہے اور چونکہ اس تالیف سے مقصود یہی ہے کہ کلام الہی کے معارف اور حقائق لوگوں کو معلوم ہوں۔اس لئے اس رسالہ میں ہمیشہ کے لئے یہ التزام کیا گیا ہے کہ کوئی دعوئی اور دلیل اپنی طرف سے نہ ہو بلکہ قرآن کریم کی طرف سے ہو جو خدا تعالیٰ کا کلام اور دنیا کی تاریکیوں کو مٹانے کے لئے آیا ہے تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ قرآن میں ہی ایک اعجازی خاصیت ہے کہ وہ اپنے دعوئی اور دلیل کو آپ ہی بیان کرتا ہے اور یہی ایک اوّل نشانی اس کی منجانب اللہ ہونے کی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنا ثبوت ہر ایک پہلو سے آپ دیتا ہے اور آپ ہی دعویٰ کرتا اور آپ ہی اس دعوئی کے دلائل پیش کرتا ہے اور ہم نے قرآن کی اس اعجازی خاصیت کو اس رسالہ میں اس لئے شائع کرنا چاہا کہ تا اس تقریب سے وہ تمام مذاہب بھی جانچے جائیں جن کے پابند اسلام کے مقابل پر ایسی کتابوں کی تعریف کر رہے ہیں جن میں یہ طاقت ہر گز نہیں کہ وہ اپنے دعوی کو دلیل کے ساتھ ثابت کریں۔یہ بات ظاہر ہے کہ الہی کتاب کی پہلی نشانی علمی طاقت ہے اور یہ امر ممکن ہی نہیں کہ ایک کتاب فی الحقیقت الہامی کتاب ہو کر کسی سچائی کے بیان میں جو عقائد دینیہ کی ضروریات میں سے ہے قاصر ہو یا ایک انسانی کتاب کے مقابل پر تار یکی اور نقصان کے گڑھے میں