حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 30 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 30

حیات احمد جلد چهارم کو اس طرح پر توجہ دلائی ہے اس جگہ منصف سوچیں کہ در صورت دروغ نکلنے اس پیشگوئی کے کس ذلت کے اٹھانے کے لئے میں طیار تھا۔اور اپنے صدق اور کذب کا کس درجہ پر اس پیشگوئی پر حصر کیا گیا تھا۔پھر وہ لوگ جو خدا کی ہستی کو مانتے اور اس بات کو جانتے ہیں کہ اس کے ارادہ کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے اور ہر ایک جھگڑے کا آخری فیصلہ اس کے ہاتھ سے ہوتا ہے وہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ایسا عظیم الشان مقدمہ جس کے نتیجے کی دو بھاری تو میں منتظر تھیں وہ خدا کے علم وارادے کے بغیر یونہی اتفاقی طور پر ظہور میں آ گیا۔گویا جو مقدمہ خدا کو سونپا گیا تھا وہ بغیر اس کے جو اس کے فیصلہ کرنے والے فرمان سے مزین ہو یونہی اس کی لاعلمی میں داخل دفتر ہو گیا۔“ (استفتاء روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۱۸) اس کے بعد ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں خصوصیت سے آپ نے منشی اندرمن صاحب مراد آبادی اور پنڈت لیکھرام صاحب کو خطاب کیا جیسا کہ میں پہلے صفحہ (۲۴) کے حاشیہ میں لکھ آیا ہوں۔اس کے بعد ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو آپ نے صاف الفاظ میں اس پیش گوئی کے متعلق جب مدت مقررہ کے لئے دعا کی تو بتایا گیا کہ چھ سال کے اندر یہ واقعہ ہوگا۔پیشگوئی کے پورے ہونے کے دوسرے نشانات مدت کے تعین کے بعد اس سلسلہ میں مزید انکشاف ہوتے رہے اور آپ فوراً اس کی اشاعت فرماتے رہے اس پیشگوئی کی اشاعت اخبارات میں ہوئی اور خود پنڈت لیکھر ام صاحب نے اس کی اشاعت میں حصہ لیا۔وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس کا ذکر کرتے رہے اور اسی سلسلہ میں حضرت اقدس کی موت بذریعہ ہیضہ اور سلسلہ کے تباہ ہو جانے کی پیشگوئی شائع کی۔