حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 31
حیات احمد ۳۱ جلد چهارم انیس ہند میرٹھ پیشگوئی پر معترض میرٹھ سے انہیں ہند نامی ایک آریہ اخبار شائع ہوتا تھا۔اس نے اپنے ۲۵ مارچ ۱۸۹۳ء کے اشو میں اس پیشگوئی پر اعتراض کیا اور حضرت نے ۲ اپریل ۱۸۹۳ء کو نہ صرف اس کا جواب شائع کر دیا بلکہ اس کے ساتھ مزید کیفیت جو آپ پر کشفی حالت میں کھلی اسے بھی ظاہر کر دیا اور وہ یہ ہے۔نمونہ دعائے مستجاب انیس ہند میرٹھے اور ہماری پیشگوئی پر اعتراض اس اخبار کا پرچه مطبوعه ۲۵ / مارچ ۱۸۹۳ ء جس میں میری اُس پیشگوئی کی نسبت جو لیکھر ام پشاوری کے بارے میں میں نے شائع کی تھی کچھ نکتہ چینی ہے مجھ کو ملا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض اور اخباروں پر بھی یہ کلمۃ الحق شاق گزرا ہے۔اور حقیقت میں میرے لئے خوشی کا مقام ہے کہ یوں خود مخالفوں کے ہاتھوں اس کی شہرت اور اشاعت ہو رہی ہے۔سو میں اس وقت اس نکتہ چینی کے جواب میں صرف اس قدر لکھنا کافی سمجھتا ہوں کہ جس طور اور طریق سے خدا تعالیٰ نے چاہا اسی طور سے کیا۔میرا اس میں دخل نہیں۔ہاں یہ سوال کہ ایسی پیشگوئی مفید نہیں ہوگی اور اس میں شبہات باقی رہ جائیں گے اس اعتراض کی نسبت میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ پیش از وقت ہے۔میں اس بات کا خود اقراری ہوں اور اب پھر اقرار کرتا ہوں کہ اگر جیسا که معترضوں نے خیال فرمایا ہے پیشگوئی کا ماحصل آخر کار یہی نکلا کہ کوئی معمولی تپ آیا یا معمولی طور پر کوئی درد ہوا یا ہیضہ ہوا اور پھر اصلی حالت صحت کی قائم ہوگئی تو پیشگوئی متصور نہیں ہوگی اور بلاشبہ ایک مکر اور فریب ہوگا۔کیونکہ ایسی بیماریوں سے تو کوئی بھی خالی نہیں۔ہم سب کبھی نہ کبھی بیمار ہو جاتے ہیں۔پس اس صورت میں بلاشبہ میں اس سزا کے لائق ٹھہروں گا جس کا ذکر میں نے کیا ہے لیکن اگر اس پیشگوئی