حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 29
حیات احمد ۲۹ جلد چهارم خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر پیش گوئی بتلائی جائے۔آخر ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو بہت توجہ اور دعا اور تضرع کے بعد معلوم ہوا کہ آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء سے چھ برس کے درمیان لیکھرام پر عذاب شدید جس کا نتیجہ موت ہے نازل کیا جائے گا۔اور اس کے ساتھ یہ عربی الہام بھی ہوا عِجْلٌ جَسَدٌ لَّهُ خُوَارٌ - لَهُ نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ۔یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے۔پس اُس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے“۔(اور اس اشتہار کے صفحہ ۲ اور ۳ میں یہ عبارت ہے ) اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے ( یعنی ۲۰ / فروری سے ) کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت ہو ( یعنی جو عوارض اور بیماریاں انسان کے لئے طبعی اور معمولی ہیں جن سے انسان کبھی صحت پا تا اور کبھی مرتا ہے ان میں سے نہ ہو ) اور اپنے اندر الہی ہلیت رکھتا ہو یعنی الہی قہر کے نشان اس میں موجود ہوں ) تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اُس کی روح سے میرا یہ نطق ہے ( یعنی میرے صدق اور کذب کا مدار بھی پیش گوئی ہے ) اور اگر میں اس پیش گوئی میں کا ذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے میں طیار ہوں۔اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رستہ ڈال کرسُولی پر کھینچا جائے“۔۲۰ فروری ۱۸۹۳ء تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۳ ۴۰۔مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۳۰۴، ۳۰۵ طبع بار دوم ) مجھے صرف واقعات کو بیان کرنا ہے قارئین کرام خود فیصلہ کرلیں گے کہ حضرت اقدس کا طرز عمل کس قوت اور یقین و معرفت کو لئے ہوئے ہے۔حضرت اقدس نے خود انصاف پسند لوگوں