حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 374
حیات احمد ۳۷۴ جلد چهارم محالات سے تھا۔ہم نہایت افسوس سے ان احباب کا یہاں ذکر کرتے ہیں جنہوں نے با وجود رجسٹری شده و غیر رجسٹری شدہ خطوط کے متواتر بھیجنے پر بھی رسید تک کی پرواہ نہ کی انعقاد جلسہ کے دوسرے ماہ ہی گل سپیکروں کی خدمت میں لکھ دیا گیا تھا کہ وہ مقررہ میعاد کے اندر اپنی تقریر میں قلمبند کر کے بھیج دیں ورنہ ان کی طرف سے رپورٹر کی لکھی ہوئی تقریر میں شائع کر دیں جاویں گی چنانچہ بعض احباب نے تو اپنی تقریریں بھیج دیں۔اور بعض نے ور بیٹم تقریروں کو منگوا کر صرف نظر ثانی پر اکتفا کی۔کیونکہ یہ تقریریں حتی الامکان تقریر کرنے والوں کے اپنے ہی بولے ہوئے الفاظ تھے۔لیکن بعض بزرگ ایسے ہیں جنہوں نے نہ مقررہ تاریخ تک اپنی تقریریں بھیجیں اور نہ نظر ثانی کے لئے لکھا۔حتی کہ رسید خط کی بھی پرواہ نہ کی اور اخیر مئی آگئی۔ایسی صورت میں کمیٹی نے جیسا کہ طریق ہے ور بیٹم رپورٹ سے ان کی تقریر اخذ کر لی۔ایسے بزرگ اگر کہیں اپنی تقریر میں اتفاقیہ نظر ثانی کی ضرورت سمجھیں تو اپنی غلطی کو اس کا جواب دہ سمجھیں۔کمیٹی نے محض ان کی خاطر اس قدر تاخیر اشاعت رپورٹ میں ڈال دی ورنہ اس رپورٹ کو آخر فروری میں شائع ہو جانا چاہیے تھا۔یہ جلسہ جس شان و شوکت امن اور اطمینان سے ہوا محتاج بیان نہیں۔شائقان جلسہ کی بہتات کا پہلے سے ہی قیاس کر کے یہ ضروری معلوم ہوا کہ نہایت وسعت والا مکان انعقاد جلسہ کے لئے تجویز ہو۔اس ضرورت کو اسلامیہ کالج سے بہتر کوئی اور مکان پورا نہ کرسکتا تھا۔جو انجمن حمایت اسلام لا ہور نے نہایت خوشی سے دیا اور اس کا خاص شکر یہ کمیٹی ادا کرتی ہے۔جلسہ یکساں رونق اور دلچسپی کے ساتھ چار دن ۲۶ / دسمبر ۱۸۹۶ء سے لے کر ۲۹ دسمبر ۱۸۹۶ء تک ہوتا رہا۔بعض دن تو تعداد حاضرین سات آٹھ ہزار تھی۔ابتدا میں اس او سب کے لئے صرف تین دن کا اعلان کیا گیا تھا لیکن سپیکروں کی زیادتی تعداد نے بعد میں ایک دن اور کی ضرورت ثابت کر دی اس جلسہ کی صدارت اور تقریروں کا