حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 373 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 373

حیات احمد جلد چهارم اس رپورٹ کے شائع ہونے میں بے شک معمول سے زیادہ کسی قدر تاخیر ہوئی لیکن اس کا باعث بعض ان اصحاب کی کم تو جہی ہے جنہوں نے جلسہ میں زبانی تقریریں بیان کر کے ان کے قلم بند کرنے میں اس قدر دیر کر دی ان زبانی تحریروں کو محفوظ کرنے کے لئے جلسہ کی طرف سے ور بیٹم نولیس اور اختصار نویس رپورٹر کا انتظام کر دیا گیا تھا۔اگر یہ حفظ ما تقدم نہ ہوتا تو اس وقت مکمل رپورٹ کا شائع کر دینا بقیہ حاشیہ۔یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا۔اور اس میں سچائی حکمت اور معرفت کا وہ نور ہے جو دوسری قومیں بشرطیکہ حاضر ہوں اور اس کو اوّل سے آخر تک سنیں شرمندہ ہو جائیں گی اور ہرگز قادر نہیں ہوں گی کہ اپنی کتابوں کے یہ کمال دکھلا سکیں خواہ وہ عیسائی ہوں خواہ آریہ خواہ سناتن دھرم والے یا کوئی اور کیونکہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اُس روز اس پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔میں نے عالم کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نور ساطعہ نکلا جواردگرد پھیل گیا اور میرے ہاتھوں پر بھی اس کی روشنی ہوئی تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا وہ بلند آواز سے بولا کہ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ۔اس کی یہ تعبیر ہے کہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جائے نزول وحلول انوار ہے اور وہ نورانی معارف ہیں اور خیبر سے مراد تمام خراب مذہب ہیں۔جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے۔اور انسان کو خدا کی جگہ دی گئی یا خدا کے صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرا دیا ہے۔سو مجھے جتلایا گیا کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھل جائے گا۔اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائے گی جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کرے پھر میں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا إنَّ اللهَ مَعَكَ إِنَّ اللهَ يَقُوْمُ أَيْنَمَا قُمْتَ یعنی خدا تیرے ساتھ ہے اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہے۔یہ حمایت الہی کے لئے ایک استعارہ ہے اب میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتا۔ہر ایک کو یہی اطلاع دیتا ہوں کہ اپنا اپنا حرج بھی کر کے ان معارف کے سننے کے لئے ضرور بمقام لاہور تاریخ جلسہ پر آویں کہ ان کی عقل اور ایمان کو اس سے وہ فائدے حاصل ہوں گے کہ وہ گمان نہیں کر سکتے ہوں گے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى خاکسار غلام احمد از قادیان ۲۱ / دسمبر ۱۸۹۶ء تبلیغ رسالت جلد پنجم صفحہ ۷۷ تا ۷۹۔مجموعہ اشتہارات جلد صفحه ۶۱۴ ، ۶۱۵ طبع بار دوم )