حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 372 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 372

حیات احمد ☆ جلد چهارم تجویز کیا اور اس کے لئے اشتہارت جاری کر کے مختلف مذاہب کے لیڈروں کو دعوت دی گئی۔حضرت اقدس نے سوامی شوگن چندر کے اعلان کا جواب بذریعہ اشتہار دیا۔اور یہ اشتہار ۲۱ / دسمبر کو بکثرت شائع کر دیا گیا۔جس میں اللہ تعالیٰ سے وجی پاکر آپ نے اس مضمون کے بالا رہنے کا اعلان بطور پیش گوئی کر دیا تھا۔اس اشتہار نے پبلک میں خاص دلچسپی پیدا کردی تھی جیسا کہ اس جلسہ کی تقریروں کی اشاعت کے انٹروڈکشن میں اس مہوتسو کے سیکرٹری نے بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔کے حاشیہ۔اس اشتہار کا پورا مضمون یہ ہے) سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری جلسہ اعظم مذاہب جو لا ہور ٹاؤن ہال میں ۲۸/۲۷/۲۶ / دسمبر ۱۸۹۶ء کو ہوگا اس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارے میں پڑھا جائے گا یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے بالا تر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے۔اس میں قرآن شریف کے وہ حقائق اور معارف درج ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ درحقیقت یہ خدا کا کلام اور رب العالمین کی کتاب ہے۔اور جو شخص اس مضمون کو اوّل سے آخر تک پانچوں سوالوں کے جواب میں سنے گا۔میں یقین کرتا ہوں کہ ایک نیا ایمان اس میں پیدا ہوگا۔اور ایک نیا نور اس میں چمک اٹھے گا اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی ایک جامع تفسیر اس کے ہاتھ آجائے گی۔یہ میری تقریر انسانی فضولیوں سے پاک اور لاف و گزاف کے داغ سے منزہ ہے مجھے اس وقت محض بنی آدم کی ہمدردی نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجبور کیا ہے کہ تا وہ قرآن مجید کے حسن و جمال کا مشاہدہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارے مخالفوں کا کس قد رظلم ہے کہ وہ تاریکی سے محبت کرتے اور نور سے نفرت رکھتے ہیں مجھے خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ حاشیہ در حاشیہ۔سوامی شوگن چندر صاحب نے اپنے اشتہار میں مسلمانوں اور عیسائی صاحبان اور آریہ صاحبوں کو قسم دی تھی کہ ان کے نامی علماء اس جلسہ میں اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں ضرور بیان فرما دیں سو ہم سوامی صاحب کو اطلاع دیتے ہیں کہ ہم اس بزرگ قسم کی عزت کے لئے آپ منشاء کو پورا کرنے کے لئے طیار ہو گئے ہیں۔اور انشاء اللہ ہمارا مضمون آپ کے جلسہ میں پڑھا جائے گا۔اسلام وہ مذہب ہے جو خدا کا نام در میان آنے سے سچے مسلمان کو کامل اطاعت کی ہدایت فرماتا ہے لیکن اب ہم دیکھیں گے کہ آپ کے بھائی آریوں اور پادری صاحبوں کو اپنے پر میشور یا یسوع کی عزت کا کس قدر پاس ہے اور وہ ایسے عظیم الشان قدوس کے نام پر حاضر ہونے کے لئے مستعد ہیں یا نہیں۔منہ