حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 350
حیات احمد ۳۵۰ جلد چهارم ہاں یہ سچ ہے کہ عیسائی مذہب کو میں اُس کی موجودہ صورت کے لحاظ سے ہرگز صحیح نہیں سمجھتا۔کوئی انسان کیسا ہی برگزیدہ ہو اس کو ہم کسی طرح خدا نہیں کہہ سکتے۔بلا شبہ وہ تعلیم جو انسان کو سچی توحید سکھاتی اور حقیقی خدا کی طرف رجوع دیتی ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے۔قرآن بڑی سلوکی سے اُسی خدا کو خدا قرار دیتا ہے جو قدیم اور ازل سے قانون قدرت کے آئینہ میں نظر آتا رہا ہے اور آ رہا ہے۔پس جس مذہب کی خدا دانی ہی غلط ہے اس مذہب سے عقلمند کو پر ہیز کرنا چاہیے جو لوگ نفسانی ہستی سے فنا ہو گئے ان کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا سے ہی نکلے ہیں کیونکہ انہوں نے خدا میں ہو کر ایک نئی اور نورانی پیدائش پائی۔اور خدا نے ان کو اپنے ہاتھ سے ایسا صاف کیا کہ فی الحقیقت وہ ایک نئے طور سے پیدا ہوئے لیکن ہم کیوں کر کہہ سکتے ہیں که در حقیقت الهُ الْعَالَمِین وہی ہیں۔خدا میں فانی ہوکرنئی پیدائش پانا کسی ایک انسان سے مخصوص نہیں بلکہ جس نے ڈھونڈ اوہ پائے گا۔اور جو آیا اُسے بلالیا جائے گا۔لیکن جس کریم خدا نے ہمیں یہ باتیں سکھائی ہیں۔اُس نے یہ بھی سکھایا ہے کہ ہم محسن گورنمنٹ کے شکر گزار رہیں۔قرآنِ کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ ہم نیکی دیکھ کر اُس کے عوض بدی کریں بلکہ یہ تعلیم ہے کہ احسان کے عوض احسان کریں اور جو لوگ کسی محسن سلطنت کے احسان مند ہو کر پھر اسی کی نسبت بدارا دے دل میں رکھتے ہیں۔وہ وحشی نادان ہیں نہ مسلمان۔اور ہم نے اگر کسی کتاب میں پادریوں کا نام دقال رکھا ہے یا اپنے تئیں مسیح موعود قرار دیا ہے تو اس کے وہ معنے مراد نہیں جو بعض ہمارے مخالف مسلمان سمجھتے ہیں۔ہم کسی ایسے دجال کے قائل نہیں جو اپنا کفر بڑھانے کے لئے خونریزیاں کرے اور نہ کسی ایسے مسیح اور مہدی کے قائل ہیں جو تلوار کے ذریعہ سے دین کی ترقی چاہیے۔“ تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۱۹۸ ،۱۹۹ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۴۶۲ ۴۶۳۰ طبع بار دوم )