حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 349 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 349

حیات احمد ۳۴۹ جلد چهارم مهدی موعود تمام مسائل رطب یا بس میں علمائے وقت سے اتفاق کرنے والا ہوتا تو کیوں پہلے سے احادیث میں یہ لکھا جاتا۔علماء اس کی تکفیر کریں گے اور سمجھیں گے کہ یہ دین کی بیخ کنی کر رہا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ مہدی کی تکفیر کے لئے علماء اپنے پاس اپنے فہم کے مطابق کچھ وجوہ رکھتے ہوں گے جن کی بنا پر اس کو کافر اور دقبال قرار دیں گے۔فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِی الْاَبْصَارِ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ وَاتَّقَى وَاتَّبَعَ الْحَقَّ وَاهْتَدَى تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۱۹۰ تا ۱۹۲۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۵ ۴۵ تا ۷ ۴۵ طبع بار دوم ) اس مقابلہ میں بھی کسی کو آنے کی ہمت نہ ہوئی اور آپ کو فتح نصیب ہوئی۔حکومت کو بدظن کرنے کی ناکام کوشش ایک طرف تو علماء مکفرین اپنی کوششوں اور منصوبوں میں عیسائیوں سے سازش کر کے آپ کی مخالفت میں سرگرم تھے۔اور اس میں ہر طرح کی ناکامیاں دیکھ رہے تھے آخر حکومت وقت (انگریزی سلطنت ) کو مخالفت پر آمادہ کرنے کے لئے لاہور کے اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ کو آلہء کار بنایا۔اور اس نے جماعت احمدیہ کے متعلق بدخواہی سرکار کا الزام لگایا۔آپ نے اس کے جواب میں ایک مفضل اعلان ۸/ دسمبر ۱۹۰۴ء کو شائع کیا جس میں اپنے مذہب کو کھول کر بیان کیا۔اور سول ملٹری کے اعتراضات کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے اپنے منصب تبلیغ کو بھی ہاتھ سے نہیں دیا قرآن کریم کی کامل تعلیم کو عیسائی مذہب کے مقابلہ میں بڑی قوت سے پیش کیا۔اس مقام پر میں قارئین کرام کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ حضرت کی جرأتِ ایمانی پر غور کریں کہ ایک طرف حکومت کے سامنے بہ حیثیت ملزم پیش کئے گئے اور آپ اس الزام کا دفاع نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ اس عیسائی گورنمنٹ پر اسلام کے کمالات کو پیش کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں فرماتے ہیں۔