حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 345
حیات احمد چوتھا اشتہارانعامی چار ہزار ۳۴۵ جلد چهارم جب اس پر بھی کوئی جواب نہ دیا تو آپ نے چوتھا اشتہار انعامی چار ہزار شائع کیا۔اور اس میں آپ نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ اگر انتم قسم کھائے گا تب بھی وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے اور اگر قسم نہ کھائے گا تب بھی اللہ تعالیٰ اسے بے سزا نہ چھوڑے گا۔فرمایا ”خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ میں بس نہیں کروں گا جب تک اپنے قوی ہاتھ کو نہ دکھلاؤں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلت ظاہر نہ کروں۔ہاں اُس نے اپنی اس عادت اور سنت کے موافق جو اس کی پاک کتابوں میں مندرج ہے آتھم صاحب کی نسبت تاخیر ڈال دی کیونکہ مجرموں کے لئے خدا کی کتابوں میں یہ ازلی وعدہ ہے جس کا تختلف روا نہیں کہ خوفناک ہونے کی حالت میں ان کو کسی قدر مہلت دی جاتی ہے اور پھر اصرار کے بعد پکڑے جاتے ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی پاک کتابوں کے وعدہ کا لحاظ رکھتا کیونکہ اس پر مختلف وعدہ جائز نہیں۔لیکن جو الہامی عبارات میں تاریخیں مقرر ہیں وہ کبھی ان سنت اللہ کے وعدوں سے جو قرآن کریم میں درج ہیں برخلاف واقع نہیں ہوسکتیں کیونکہ کوئی الہام وحی الہی قرار دادہ شرائط سے باہر نہیں ہوسکتا۔اب اگر آتھم صاحب قسم کھالیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا لیکن ہم اس مؤخر الذکر شق کی نسبت بھی صرف اتنا کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نشان کو ایک عجیب طور پر دکھلانے کا ارادہ کیا ہے جس سے دنیا کی آنکھ کھلے اور تاریکی دور ہو اور وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں مگر اس وقت اور گھڑی کا علم جب دیا جائے گا تب اس کو شائع کر دیا جائے گا۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحہ ۱۷۷۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۴۴۵ طبع بار دوم )