حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 346
حیات احمد ۳۴۶ جلد چهارم مکفرین علماء کو ایک اور چیلنج آتھم کو دعوت قسم کا چوتھا اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ ۲۷ /اکتوبر۱۸۹۴ء کو جیسا کہ اوپر بیان ہوا شائع کر دیا گیا۔اسی اثناء میں چاند گرہن اور سورج گرہن کا وہ نشان آپ کی تائید میں ظاہر ہوا باوجود یکہ یہ ایک ایسا زبر دست سماوی نشان تھا جس کی خبر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔مگر علماء حاسدین نے اس کے مشکوک کرنے کے لئے طرح طرح کے حیل تراشے۔آپ نے اُن پر اس اور بعض دوسرے نشانات ( جو خود ان کے مسلمہ علماء کی تصانیف میں موجود تھے ) کی جو حضرت کی تائید میں ظاہر ہوئے تھے تکذیب کی تو آپ نے ان پر اتمام حجت کے لئے پھر آسمانی فیصلہ کی طرف ان کو دعوت دی اور اس کے لئے ایک ہزار روپیہ انعام بھی مقرر کیا جو مجر دقتسم کھانے پر دے دیا جائے گا۔یہ نشانات جو حجج الكرامه مصنفہ نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالی میں درج ہیں کہ مہدی موعود کے چار نشان خاص ہیں جن میں ان کا غیر شریک نہیں (۱) علماء اس کی تکفیر کریں گے اور اس کا نام دجال کا فر۔بے ایمان رکھیں گے اس کی تحقیر ، سب وشتم کریں گے وغیرہ۔(۲) اس کے وقت میں رمضان میں کسوف و خسوف ہوگا جو اس سے پہلے کسی مامور کے زمانہ میں نہیں ہوا۔اور یہ ضروری ہوگا کہ مدعی پہلے موجود ہو اور اس کے بعد دعوی کی اشاعت پر کفر کے فتوے ہو جائیں اور یہ نشان ظاہر ہو۔(۳) اس مدعی مہدی کے زمانہ میں ایک فتنہ ہوگا جو نصاریٰ اور مہدی کی جماعت میں ہوگا۔نصاریٰ کے لئے شیطان آواز دے گا کہ حق عیسائیوں کے ساتھ ہے اور مہدی کی جماعت کے لئے آسمانی آواز آئے گی یعنی تائیدی نشان ظاہر ہوں گے جو انسانی ہاتھ سے بالا تر اور اٹل ہوں گے ان سے ثابت ہوگا کہ حق ال محمد کے ساتھ ہے۔چوتھی نشانی یہ کہ بہت سے لوگ جو بظاہر مسلمان ہوں گے عملاً یہودیوں کے نقش قدم پر چلیں گے اور دجال یعنی عیسائی فتنہ کی تائید کریں گے۔