حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 344 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 344

حیات احمد ۳۴۴ جلد چهارم جائے گا اگر آپ چوسٹھ برس کے ہیں تو میری عمر بھی قریباً ساٹھ کی ہو چکی۔دو خداؤں کی لڑائی ہے ایک اسلام کا دوسرا عیسائیوں کا پس جو سچا قادر خدا ہو گا وہ ضرور اپنے بندہ کو بچالے گا۔اگر آپ کی نظر میں کچھ عزت اُس مسیح کی ہے جس نے مریم صدیقہ سے تولد پایا تو اس عزت کی سفارش پیش کر کے پھر میں آپ کو خداوند قادر مطلق کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اس اشتہار کے منشاء کے موافق عام مجلس میں قسم مؤکد بعذ اب کھاویں یعنی یہ کہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں نے پیشگوئی کی میعاد میں اسلامی عظمت اور صداقت کا کچھ اثر اپنے دل پر نہیں ڈالا اور نہ اسلامی پیشگوئی کی حقانی ہیبت میرے دل پر طاری ہوئی اور نہ میرے دل نے اسلام کو حقانی مذہب خیال کیا بلکہ میں در حقیقت مسیح کی اہنیت اور الوہیت اور کفارہ پر یقین کامل کے ساتھ اعتقاد رکھتا رہا۔اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں تو اے قادر خدا ! جو دل کے تصورات کو جانتا ہے اس بیبا کی کے عوض میں سخت ذلت اور دکھ کے ساتھ عذاب موت ایک سال کے اندر میرے پر نازل کر اور یہ تین مرتبہ کہنا ہوگا اور ہم تین مرتبہ آمین کہیں گے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کو مسیح کی عزت کا کچھ بھی پاس ہے یا نہیں زیادہ کیا لکھوں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى راقم میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۱٫۵ کتوبر ۱۸۹۴ء تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۱۵۷ تا ۱۶۱ مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۴۳۰ تا ۵۳۲ طبع بار دوم ) ا نوٹ۔میں اس جگہ ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عمادالدین صاحب اور دیگر پادری صاحبان کو بھی حضرت عیسی مسیح ابن مریم کی عزت اور وجاہت کو اپنے اس قول کا درمیانی شفیع ٹھہرا کر خداوند قادر ذوالجلال کی قسم دیتا ہوں کہ وہ آتھم صاحب کو حسب منشاء میری قسم کھانے کے لئے آمادہ کریں ورنہ ثابت ہوگا کہ ان کے دل میں ایک ذرہ تعظیم حضرت مسیح کی عزت و وجاہت کی نہیں ہے۔منہ