حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 343 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 343

حیات احمد ۳۴۳ جلد چهارم کے امتحان کا وہی ذریعہ ہے جو الہی تفہیم نے میرے پر ظاہر کیا یعنی یہ کہ آپ قسم موکد بعذ اب موت کھا جائیں۔اب اگر آپ قسم نہ کھائیں اور یوں ہی فضول گو مد عاعلیہوں کی طرح اپنی عیسائیت کا اظہار کریں تو ایسے بیانات شہادت کا حکم نہیں رکھتے بلکہ تعصب اور حق پوشی پر مبنی سمجھے جاتے ہیں۔سو اگر آپ سچے ہیں تو میں آپ کو اس پاک قادر ذوالجلال کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور تاریخ مقرر کر کے جلسہ عام یا خاص میں حسب شرح بالا قسم مؤکد بعذ اب موت کھاویں تاحق اور باطل میں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے فیصلہ ہو جائے۔اب میں آپ کی اُس مہمل تقریر کی جو آپ نے پرچہ نورافشاں ۲۱ ستمبر ۱۸۹۴ء میں چھپوائی ہے حقیقت ظاہر کرتا ہوں کیا وہ ایک شہادت ہے جو فیصلہ کے لئے کارآمد ہو سکے ہر گز نہیں وہ تو مدعاعلیہوں کے رنگ میں ایک یک طرفہ بیان ہے۔جس میں آپ نے جھوٹ بولنے اور حق پوشی سے ذرا خوف نہ کیا کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ یہ بیان بطور بیان شاہد قسم کے ساتھ مؤکد نہیں بلکہ جاہلوں کے لئے ایک طفل تسلی ہے پھر آپ زبان دبا کر یہ بھی اس میں اشارہ کرتے ہیں کہ میں عام عیسائیوں کے عقیدہ ابنیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں ان عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ کے ساتھ کچھ بیہودگی کی اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ قریب ستر برس کی میری عمر ہے اور پہلے اس سے اسی سال کے کسی پر چہ نورافشاں میں چھپا تھا کہ آپ کی عمر چوسٹھ برس کی ہے۔پس میں متعجب ہوں کہ اس ذکر سے کیا فائدہ کیا آپ عمر کے لحاظ سے ڈرتے ہیں۔کہ شاید میں فوت ہو جاؤں اگر آپ نہیں سوچتے کہ بجز اراده قادر مطلق کوئی فوت نہیں ہوسکتا۔جبکہ میں بھی قسم کھا چکا اور آپ بھی کھا ئیں گے تو جو شخص ہم دونوں میں جھوٹا ہوگا۔وہ دنیا پر اثر ہدایت ڈالنے کے لئے اس جہاں سے اٹھالیا