حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 342 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 342

حیات احمد ۳۴۲ جلد چهارم آپ کے قسم کھانے کے وقت تین ہزار کے بدرے پہلے پیش کئے جائیں گے یا تحریر با ضابطہ لے کر پہلے ہی دے دیئے جائیں گے۔اگر میں روپیہ دینے میں ذرہ بھی توقف کروں تو اسی مجلس میں جھوٹا ٹھہر جاؤں گا۔مگر وہ روپیہ ایک سال تک بطور امانت آپ کے ضامنوں کے پاس رہے گا۔پھر آپ زندہ رہے تو آپ کی ملک ہو جائے گا۔اور اگر اس کے سوا میرے لئے میرے کا ذب نکلنے کی حالت میں سزائے موت بھی تجویز ہو تو بخدا اس کے بھگتنے کے لئے بھی تیار ہوں مگر افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ اس قسم کے کھانے کے لئے اب تک آمادہ نہیں ہوئے اگر آپ بچے ہیں اور میں ہی جھوٹا ہوں تو کیوں میرے روبرو جلسہ عام میں قسم مؤکد بعذ اب موت نہیں کھاتے مگر آپ کی یہ تحریریں جو اخباروں میں یا خطوط کے ذریعہ سے آپ شائع کر رہے ہیں بالکل سچائی اور راستبازی کے برخلاف ہیں کیونکہ یہ باتیں بحیثیت ایک مدعا علیہ کے آپ کے منہ سے نکل رہی ہیں جو ہرگز قابلِ اعتبار نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ بحیثیت ایک گواہ کے جلسہ عام میں حاضر ہوں یا چند ایسے خاص لوگوں کے جلسہ میں جن کی تعداد فریقین کی منظوری سے قائم ہو جائے۔آپ خوب سمجھتے ہیں کہ فیصلہ کرنے کے لئے اخیری طریق حلف ہے۔اگر آپ فیصلہ کی طرف رخ نہ کریں تو آپ کو حق نہیں پہنچتا کہ آئندہ کبھی عیسائی کہلاویں مجھے حیرت پر حیرت ہے اگر واقعی طور پر آپ سچے اور میں مفتری ہوں تو پھر کیوں ایسے فیصلہ سے آپ گریز کرتے ہیں جو آسمانی ہوگا۔اور صرف سچے کی حمایت کرے گا۔اور جھوٹے کو نابود کر دے گا۔بعض نادان عیسائیوں کا یہ کہنا کہ جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔عجیب حماقت اور بے دینی ہے۔وہ اس امر واقعی کو کیونکر اور کہاں چھپا سکتے ہیں کہ وہ پہلی پیشگوئی دو پہلو پر مشتمل تھی۔پس اگر ایک ہی پہلو پر مدار فیصلہ رکھا جائے تو اس سے بڑھ کر کون سی بے ایمانی ہوگی اور دوسرے پہلو