حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 341
حیات احمد آتھم کے نام کھلا خط ۳۴۱ جلد چهارم از طرف عبدالله الاحد احمد عافاه الله وايد آتھم صاحب کو معلوم ہو کہ میں نے آپ کا وہ خط پڑھا جو آپ نے نورافشاں ۲۱ ستمبر ۱۸۹۴ء کے صفحہ ۱۰ میں چھپوایا ہے مگر افسوس کہ آپ اس خط میں دونوں ہاتھ سے کوشش کر رہے ہیں کہ حق ظاہر نہ ہو میں نے خدا تعالیٰ سے سچا اور پاک الہام پا کر یقینی اور قطعی طور پر جیسا کہ آفتاب نظر آجاتا ہے معلوم کر لیا ہے کہ آپ نے میعاد پیشگوئی کے اندر اسلامی عظمت اور صداقت کا سخت اثر اپنے دل پر ڈالا اور اسی بنا پر پیشگوئی کے وقوع کا ہم وغم کمال درجہ پر آپ کے دل پر غالب ہوا میں اللہ جَلَّ شَانُہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بالکل صحیح ہے اور خدا تعالیٰ کے مکالمہ سے مجھ کو یہ اطلاع ملی ہے اور اس پاک ذات نے مجھے یہ اطلاع دی ہے کہ جو انسان کے دل کے تصورات کو جانتا اور اس کے پوشیدہ خیالات کو دیکھتا ہے اور اگر میں اس بیان میں حق پر نہیں تو خدا مجھ کو آپ سے پہلے موت دے۔پس اسی وجہ سے میں نے چاہا کہ آپ مجلس عام میں قسم غلیظ مؤکد بعذ اب موت کھاویں ایسے طریق سے جو میں بیان کر چکا ہوں تا میرا اور آپ کا فیصلہ ہو جائے۔اور دنیا تاریکی میں نہ رہے اگر آپ چاہیں گے تو میں بھی ایک برس یا دو برس یا تین برس کے لئے قسم کھالوں گا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ سچا ہرگز برباد نہیں ہوسکتا بلکہ وہی ہلاک ہوگا جس کو جھوٹ نے پہلے سے ہلاک کر دیا ہے۔اگر صدق الہام اور صدق اسلام پر مجھے قسم دی جائے تو میں آپ سے ایک پیسہ نہیں لیتا۔لیکن نوٹ۔بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ الہام پندرہ مہینہ کے اندر کیوں شائع نہ کیا سو واضح ہو کہ پندرہ مہینہ کے اندر ہی یہ الہام ہو چکا تھا پھر جبکہ الہام نے اپنی صداقت کا پورا ثبوت دے دیا تو ثابت شدہ امر کا انکار کرنا بے ایمانی ہے۔منہ