حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 284 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 284

حیات احمد ۲۸۴ جلد چهارم باقی پڑے ہیں۔پھر ایسی صورت میں جلسہ کا اتنا بڑا اہتمام جو صد ہا آدمی خاص اور عام کئی دن آکر قیام پذیر رہیں۔اور جلسہ سابقہ کی طرح بعض دور دراز کے غریب مسافروں کو اپنی طرف سے زاد راہ دیا جاوے اور کماحقہ کئی روز صد ہا آدمیوں کی مہمانداری کی جاوے۔اور دوسرے لوازم چار پائی وغیرہ کا صدہا لوگوں کے لئے بندو بست کیا جائے اور ان کے فروکش ہونے کے لئے کافی مکانات بنائے جائیں۔اتنی توفیق ابھی ہم میں نہیں۔۔غرض ان وجوہ کے باعث اب کے سال التوائے جلسہ مناسب دیکھتا ہوں۔آگے اللہ جل شانہ کا جیسا ارادہ ہو کیونکہ اس کا ارادہ انسان ضعیف کے ارادہ پر غالب ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور میں نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء میری اس تحریر کے موافق ہے یا اس کی تقدیر میں وہ امر ہے جو اب تک مجھے معلوم نہیں۔وَأَفَوِّضُ أَمْرِكْ إِلَى اللَّهِ وَاَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ هُوَ مَوْلَانَا نِعْمَ الْمَولَى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ خاکسار غلام احمد از قادیان شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۹۴ تا ۴۰۰ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۳۶۰ تا ۳۶۵ طبع بار دوم ) ان اقتباس کو پڑھ کر ہر سلیم الفطرت انسان کہہ اٹھے گا کہ آپ کا مقصد بعثت نہایت اہم اور اعلیٰ تھا۔خلاصہ واقعات ۱۸۹۳ء ۱۸۹۳ء سلسلہ کی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اسی سال میں سلسلہ احمدیہ کی علمی اور روحانی شاندار کامیابیوں کا آغاز ہوا اور حضرت کی تجدید دین کے کارناموں میں نئے علم کلام کی بنیاد پر ایک شاندار عمارت کی تعمیر کا آغاز ہوا۔آپ کے فرائض منصبی میں اظہارالدین اور