حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 283 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 283

حیات احمد ۲۸۳ جلد چهارم لوگوں سے کیا کام جو بچے دل سے دینی احکام اپنے سر پر نہیں اٹھا لیتے اور رسول کریم کے پاک جوئے کے نیچے اپنی گردنیں نہیں دیتے اور راستبازی کو اختیار نہیں کرتے۔اور فاسقانہ عادتوں سے بیزار ہونا نہیں چاہتے اور ٹھٹھے کی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور ناپاکی کے خیالوں کو ترک نہیں کرتے اور انسانیت اور تہذیب اور صبر اور نرمی کا جامہ نہیں پہنتے بلکہ غریبوں کو ستاتے اور عاجزوں کو دھکے دیتے اور اکڑ کر بازاروں میں چلتے اور تکبر سے کرسیوں پر بیٹھتے ہیں اور اپنے تئیں بڑا سمجھتے ہیں اور کوئی بڑا نہیں مگر وہی جو اپنے تئیں چھوٹا خیال کرے۔مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹا سمجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں اور غریبوں اور مسکینوں کی عزت کرتے ہیں اور عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے ہیں اور کبھی شرارت اور تکبر کی وجہ سے ٹھٹھا نہیں کرتے۔اور اپنے رب کریم کو یا د رکھتے ہیں اور زمین پر غریبی سے چلتے ہیں۔سومیں بار بار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے نجات طیار کی گئی ہے۔جو شخص شرارت اور تکبر اور خود پسندی اور غرور اور دنیا پرستی اور لالچ اور بدکاری کی دوزخ سے اسی جہان میں باہر نہیں ہوگا۔میں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گروہ کے دلوں پر کارگر ہوں خدایا مجھے ایسے لفظ عطا فرما۔اور ایسی تقریریں الہام کر جوان دلوں پر اپنا نور ڈالیں اور اپنی تریاتی خاصیت سے ان کے زہر کو دور کر دیں۔میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے در حقیقت جھوٹ چھوڑ دیا۔اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کرلیا کہ وہ ہر یک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے۔اور تکبر سے جو تمام شراتوں کی جڑ ہے بالکل دور جا پڑیں گے اور اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے۔۔۔۔دوسرے یہ کہ ابھی ہمارے سامان نہایت نا تمام ہیں اور صادق جانفشان بہت کم اور بہت سے کام ہمارے اشاعت کتب کے متعلق قلت مخلصوں کے سبب سے