حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 282
حیات احمد ۲۸۲ جلد چهارم آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرا دے۔اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چار پائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں۔اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے۔اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سور ہوں۔اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے۔تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں بلکہ مجھے چاہیے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں۔اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے رو رو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے۔اور روحانی طور پر بیمار ہے۔اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اُس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہیے کہ میں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں برجبین ہوکر تیزی دکھاؤں یا بد نیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں۔کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو۔جب تک وہ اپنے تیں ہر ایک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیں دور نہ ہوجائیں۔خادم القوم ہونا مخدوم بنے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہوکر اور جھک کر بات کرنا مقبول الہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں۔اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔۔۔پس اے نادانو! خوب سمجھو۔اے غافلو! خوب سوچ لو کہ بغیر کچی پاکیزگی ایمانی اخلاقی اور اعمالی کے کسی طرح رہائی نہیں اور جو شخص ہر طرح سے گندہ رہ کر پھر اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو نہیں بلکہ وہ اپنے تئیں دھوکا دیتا ہے اور مجھے ان