حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 19 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 19

حیات احمد ۱۹ جلد چهارم ایماء سے حاصل ہوا چنانچہ حضرت مخدوم الملتہ ترجمہ کی تمہید میں فرماتے ہیں۔الْحَمْدُ لِوَلِيّهِ وَالصَّلَوةُ عَلى نَبِيِّهِ اَمَّا بَعْدُ عرض میدارد بخدمت برادران بنده نا چیز عبدالکریم سیالکوتی که بعد از آنکه حضور مقدس مسیح موعود امام زمان مجد د عصر این دعوت نامه را بلسان عربی مبین ترقیم فرمودند رحمت واسعه که خاصه غیر منفلہ ، حضرت ایشان می باشد قلب اطہر وانور را تحریکے کرد که پارسی زبانان را نیز از آن مائده سماویہ بہرہ مند فرمایند بنابران ایں عاجز بیچ مرز را که از خاک نشیناں عقبہ عالیه می باشد امر فرمودند که این در ر غر ر را به سلک زبان پارسی کشد۔وایں ہمہ از وفور کرم و جوش رحمت حضرت ایشان است که این سیاہ کار را سهیم و انباز دریں کار خیر ساختند فَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْأَوْلَى وَالْآخِرَةِ - بندہ امتثالاً لامره الشریف اقبال بایں امر نمودم وگر نہ خدائے بزرگ می داند که از بے مایگی ندامت و مجلت متصلاً لا حق حال بوده است - اَللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّى إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ واکثر جا این ترجمه بطور بالمعنی کردہ شدہ۔ملکہ وکٹوریہ کو دعوت اسلام ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۶۴، ۳۶۵) مشائخین پر اتمام حجت کے ساتھ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے ملکہ وکٹوریا قیصرہ ہند کو جو سریر آرائے سلطنت برطانیہ تھیں دعوت اسلام پر مشتمل ایک مکتوب لکھا۔یہ خط آئینہ کمالات اسلام میں بزبان عربی شائع ہوا۔اور اس کے ترجمہ کی سعادت بھی حضرت مخدوم الملۃ کو حاصل ہوئی۔خط کی رسید شکر یہ موصول ہوئی۔اور حضرت اقدس کی تمام تصانیف بھی طلب ہوئیں۔چونکہ انگلستان کے بادشاہ کے لئے عیسائی ہونا اور فرقہ پروٹسٹنٹ سے ہونا لازمی ہے اس لئے اتنی بڑی قربانی کہ تخت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا جائے آسان نہ تھی۔اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ملکہ معظمہ