حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 18 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 18

حیات احمد ۱۸ جلد چهارم معلوم ہوا کہ یہ خط عربی میں لکھنا چاہیے۔اور یہ بھی الہام ہوا کہ ان لوگوں پر اثر بہت کم پڑے گا۔ہاں اتمام حجت ہوگا۔اور شاید عربی میں خط لکھنے کی یہ مصلحت ہو کہ جو لوگ فقر اور تصوف کا دعویٰ رکھتے ہیں اور بباعث شدت حجب غفلت اور عدم تعلقات محبت دین کے انہوں نے قرآن خوانی اور عربی دانی کی طرف توجہ ہی نہیں کی وہ اپنے دعوئی میں کاذب ہیں اور خطاب کے لائق نہیں کیونکہ اگر ان کو اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی تو وہ ضرور جد و جہد سے وہ زبان حاصل کرتے جس میں اللہ تعالیٰ کا پیار اور پُر حکمت کلام نازل ہوا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی اُن پر رحمت سے نظر ہوتی تو ضرور ان کو اپنا پاک کلام سمجھنے کے لئے تو فیق عطا کرتا اور اگر ان کو قرآن کریم سے سچا تعشق ہوتا تو وہ سجادہ نشینی کی خانقاہوں کو آگ لگاتے اور بیعت کرنے والوں سے بہزار دل بیزار ہو جاتے اور سب سے اول علم قرآن کریم حاصل کرتے اور وہ زبان سیکھتے جس میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔سو ان کے ناقص الدین اور منافق ہونے کے لئے یہ کافی دلیل ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کی وہ قدر نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی۔اور اس سے وہ محبت نہیں لگائی جو لگانی چاہیے تھی۔پس ان کا کھوٹ ظاہر ہو گیا۔دیکھنا چاہیے کہ بہت سے انگریز پادری ایسے ہیں جنہوں نے مخالفت کے جوش سے پچاس پچاس برس کے ہو کر عربی زبان کو دیکھا ہے۔اور قرآنِ کریم کے معانی پر اطلاع پائی ہے۔پھر جس شخص کو قرآنِ کریم کی محبت کا دعوی ہے بلکہ اپنے تئیں پیر اور شیخ کہلواتا ہے اس میں اگر محبوں کے آثار نہ پائے جائیں اور بکلی قرآن کریم کے معانی اور حقائق سے بے نصیب ہو تو یہی ایک دلیل اس بات پر کافی ہے کہ وہ اپنے دعوی فقر میں مکار ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام صفحه ۳۵۹ تا ۳۶۱- روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۹ تا ۳۶۱) اس تبلیغ کے فارسی ترجمہ کا شرف بھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو حضرت اقدس کے