حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 20 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 20

حیات احمد جلد چهارم پر اس خط کا کیا اثر ہوا۔تصنیف آئینہ کمالات کے دوران میں الہامات اور کشوف ورؤیا کا سلسلہ جاری رہا جن میں بعض آئندہ آنے والے واقعات کے متعلق پیشگوئیاں تھیں۔ایک بیٹے کی بشارت ان پیشگوئیوں میں ایک بیٹے کی بشارت بھی دی گئی۔چنانچہ آئینہ کمالات اسلام کے صفحه ۲۶۶ ( پہلا ایڈیشن) میں یہ الہام درج ہے سَيُولَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنَى مِنْكَ الْفَضْلُ إِنَّ نُوْرِی قَرِيْبٌ۔۲۰ / اپریل ۱۸۹۳ء کو یہ پیشن گوئی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سَلَّمَهُ اللهُ الآحد کی پیدائش سے پوری ہوئی۔اور حضرت اقدس نے منکرین پر اتمام حجت کے لئے اسی تاریخ کو مندرجہ ذیل اعلان شائع فرمایا جو پنجاب پریس سیالکوٹ میں طبع ہوا۔۲۰ اپریل ۱۸۹۳ء سے چار مہینہ پہلے صفحہ ۲۶۶ آئینہ کمالات اسلام میں بقید تاریخ شائع ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک اور بیٹے کا اس عاجز سے وعدہ کیا ہے جو ریب پیدا ہو گا۔اس پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں سَيُوْلَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنَى مِنْكَ الْفَضْلُ إِنَّ نُوْرِى قَرِيْبٌ۔( ترجمہ ) یعنی عنقریب تیرے لڑکا پیدا ہوگا۔اور فضل تیرے نزدیک کیا جائے گا۔یقیناً میرا نور قریب ہے۔سو آج ۲۰ را پریل ۱۸۹۳ء کو وہ پیش گوئی پوری ہو گئی۔یہ تو ظاہر ہے کہ خود انسان کو اپنی زندگی کا اعتبار نہیں۔چہ جائیکہ یقینی اور قطعی طور پر یہ اشتہار دیوے کہ ضرور عنقریب اس کے گھر میں بیٹا پیدا ہو گا۔خاص کر ایسا شخص جو اس پیشگوئی کو اپنے صدق کی علامت ٹھہراتا ہے اور تحدی کے طور پر پیش کرتا ہے۔اب چاہیے کہ شیخ محمد حسین صاحب اس بات کا بھی جواب دیں کہ یہ پیشگوئی کیوں پوری