حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 277 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 277

حیات احمد ۲۷۷ جلد چهارم عَلى نُور کر دیا۔پس اگر اس قاعدہ سے احادیث کو دیکھا جائے تو ان کے اکثر حصہ کو جس کا معین اور مددگار سلسلہ تعامل ہے احاد کے نام سے یاد کرنا بڑی غلطی ہوگی اور درحقیقت یہی ایک بھاری غلطی ہے جس نے اس زمانہ کے نیچریوں کو صداقت اسلام سے بہت ہی دور ڈال دیا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا اسلام کی وہ تمام سنن اور رسوم اور عبادات اور سوانح اور تواریخ جن پر حدیثوں کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ صرف چند حدیثوں کی بنا پر ہی قائم ہیں حالانکہ یہ ان کی فاش غلطی ہے بلکہ جس تعامل کے سلسلہ کو ہمارے نبی صلعم نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا وہ ایسا کروڑ ہا انسانوں میں پھیل گیا تھا کہ اگر محدثین کا دنیا میں نام ونشان بھی نہ ہوتا تب بھی اس کو کچھ نقصان نہ تھا۔یہ بات ہر ایک کو ماننی پڑتی ہے کہ اُس مقدس معلم اور مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی باتوں کو ایسا محدود نہیں رکھا تھا کہ صرف دو چار آدمیوں کو سکھلائی جائیں اور باقی سب اس سے بے خبر ہوں اگر ایسا ہوتا تو اسلام ایسا بگڑتا کہ کسی محدث وغیرہ کے ہاتھ سے ہرگز درست نہیں ہو سکتا تھا۔اگر چہ ائمہ حدیث نے دینی تعلیم کی نسبت ہزا رہا حدیثیں لکھیں مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ کون سی حدیث ہے کہ جو اُن کے لکھنے سے پہلے اُس پر عمل نہ تھا اور دنیا اس مضمون سے غافل تھی۔اگر کوئی ایسی تعلیم یا ایسا واقعہ یا ایسا عقیدہ ہے جو صرف اس کی بنیادی اینٹ صرف ائمہ حدیث نے ہی کسی روایت کی بنا پر رکھی ہے اور تعامل کے سلسلہ میں جس کے کروڑ ہا افراد انسانی قائل ہوں اس کا کوئی اثر و نشان دکھائی نہیں دیتا اور نہ قرآن کریم میں اُس کا کچھ ذکر پایا جاتا ہے تو بلا شبہ ایسی خبر واحد جس کا پتہ بھی سو ڈیڑھ سو برس کے بعد لگا یقین کے درجہ سے بہت ہی نیچے گری ہوئی ہوگی اور جو کچھ اُس کے ناقابل تسلی ہونے کی نسبت کہو وہ بجا ہے لیکن ایسی حدیثیں در حقیقت دین اور سوانح اسلام سے کچھ بڑا تعلق نہیں رکھتیں۔بلکہ اگر سوچ کر دیکھ تو ائمہ حدیث نے ایسی حدیثوں کا بہت ہی کم ذکر کیا ہے۔جن کا تعامل کے